انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 456

انوار العلوم جلد ۵ ۴۵۶ اصلاح نفسر کو تعلیم نہ دیں آج سے پچاس سال بعد ہماری ہی اولاد سے ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں گے جیسے دوسرے لوگ ہیں ایسی صورت میں نہیں ان قربانیوں اور کوششوں کی کیا ضرورت ہے جو ہم دین کے لئے کر رہے ہیں۔اگر ہم اس وقت امریکہ یورپ اور افریقہ سے پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اسلام کی طرف تو لائیں مگر اپنی اولاد کو دین نہ سکھائیں تو اس کا کیا فائدہ ؟ پس احمدیوں کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کریں۔یہ نظم جو آج سنائی گئی ہے میں نے انہی بچوں کے لئے لکھی ہے جو اس وقت تربیت کے محتاج ہیں۔وہ قوم کبھی قائم نہیں رہ سکتی جو اپنی اولاد کی تربیت نہیں کرتی ہیں جب تک تم اپنی اولاد ، بیوی بچوں کو دین نہیں سکھلاتے تمہاری کوششوں کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کپڑا بنا کر پھاڑ ڈالا جائے۔تم ان کو دین سکھاؤ اور اس طرح سکھاؤ کہ ان میں السیار چ جائے کہ ان کے لئے دین کو چھوڑنا زیادہ مشکل ہو بہ نسبت اس کے کہ ان کے گلے پر چھری رکھی جائے تو اس کے نیچے سے نکلنا۔دیکھو ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ اس سے بڑا انسان بنے۔پھر تمہیں یہ کس طرح گوارا ہو سکتا ہے کہ تمہاری اولاد دین میں تم سے کم رہے حضرت مسیح موعود نبی تھے مگر دیکھو خیر خواہوں کی نیت کیسی ہوتی ہے جب میں نے تشخید کالا تو ایک دفعہ مسجد میں حضرت خلیفہ اول کو کہا گیا آپ نے تشخید پڑھا ہے ؟ انہوں نے کہا پڑھا ہے۔" اچھا لکھا ہے۔مگر مجھے پسند نہیں آیا کیونکہ ہمارے ہاں ٹوڈا ۴۲ کی مثال مشہور ہے۔میں نہیں سمجھتا تھا کہ ٹوڈا کیا ہوتا ہے ؟ مولوی صاحب نے فرمایا ٹوڈا اونٹ کا بچہ ہوتا ہے اور شل ہے کہ اونٹ کی قیمت ہم ہو تو اس کے بچے کی ہم ہونی چاہئے۔ہم تو تب سمجھتے جب تم مرزا سے بڑھ کر لکھتے۔یہ تو ان کا ذوق تھا۔مگر ہر شخص جو خیر خواہ ہو۔اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے قائمقام بننے والے ہم سے بڑھ کر ہوں۔ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر اس سفر میں کہ جس میں حضرت مسیح موعود فوت ہوئے ایک دفعہ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کی ہند و پیشنر سیشن جج کی آمد کی خبر دینے آئے جو بغرض ملاقات آئے تھے۔آپ نے اس وقت ان سے کہا کہ میں بھی بیمار ہوں گھر محمود بھی بیمار ہے مجھے اس کی بیماری کا زیادہ فکر ہے آپ اس کا توجہ سے علاج کریں۔تو والدین کو اپنی اولاد کا بڑا فکر ہوتا ہے۔مگر تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو احمدی بنانے کا فکر نہیں کرتے۔اپنی اولاد کو دین نہیں سکھاتے۔نماز کا وقت ہوگا تو سردی یا کسی اور وجہ سے کہیں گے بچہ نے نماز نہیں پڑھی تو کیا ہوا ؟ حالانکہ بچوں کی تربیت کا زمانہ ان کا بچپن کا ہی زمانہ ہوتا ہے اور بچپن کی تربیت ہی