انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 425

انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۵ اصلاح نفس مجھے بیچا۔یہ پیش گوئی ہے جس کے ماتحت ہم کام کر رہے ہیں نہ کہ یونسی کام کرتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے تیرہ سو سال قبل ہمارے لئے یہ کام بتا دیا تھا جو اب ہم کر رہے ہیں۔جو کچھ کہا جائے اس کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھو اب میں اصل موضوع کو لیتا ہوں جس پر آج مجھے تقریر کرنی ہے مگر اس سے پہلے میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ بعض لوگ کسی ہدایت سے اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے مخاطب ہم نہیں بلکہ دوسرے ہیں۔اگر ایک مجلس میں کہا جائے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے یہ بہت بُری بات ہے تو بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کی اس بات کو سن کر چیخین نکل جائیں گی۔مگر اس لئے نہیں کہ وہ سمجھیں گے کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ کہیں گے دوسرے لوگ ایسے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔وہ اس وقت غصہ سے اپنے دائیں بائیں دیکھیں گے اور اپنی حرکات سے غم و غصہ کا اظہار کریں گے کہ لوگ کیوں جھوٹ بولتے ہیں لیکن یہ خیال کسی کو نہ آئے گا کہ شائد میں ہی اس نصیحت کا مخاطب ہوں مومن کا یہ کام نہیں ہوتا۔پس یاد رکھو کہ جب وعظ ہو رہا ہو تو اس کا مخاطب اپنے ہی نفس کو سمجھنا چاہئے۔اس موقعہ پر شیطان اس طرح دھوکا دیا کرتا ہے کہ اس کے مخاطب تم نہیں ہو بلکہ دوسرے ہیں اور اس طرح اس سے فائدہ اُٹھانے سے محروم رکھتا ہے۔کیونکہ اگر شیطان یہ کسے کہ جھوٹ اچھی بات ہے اگر تم میں پایا جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں تو اس کی بات کوئی نہیں مانے گا۔لیکن جب یہ کہتا ہے کہ جھوٹ فی الواقع بہت بُری چیز ہے اور اس سے بچنے کی جو نصیحت کی جارہی ہے وہ بہت ضروری ہے مگر اس نصیحت کے مخاطب دوسرے لوگ ہیں تم نہیں ہو۔تو بہت سے لوگ اس نصیحت سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جاتے ہیں پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو کچھ کہا جائے اسے خوب غور سے سنیں۔اور ہر وہ شخص جس نے کان تک بات پہنچے وہ سمجھے کہ میں اس کا مخاطب ہوں۔کیونکہ اگر وہ یہ مجھے گا کہ یں نہیں بلکہ اس کے مخاطب دوسرے ہیں تو اسے کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور وہ گورے کا گورا ہی رہے گا۔اپنے اپنے نفس میں غور کرو اب میں اصل بات کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ہم لوگ جو احمدی کہلاتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں ایک بات ہے جو غیروں میں نہیں ہے اس وجہ سے ہم خوش بھی ہوتے ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ جب حضرت مسیح موعود نے ہم میں نیکی اور تقویٰ کا بیج بویا تھا اس