انوارالعلوم (جلد 5) — Page 22
۲۲ ایک عجیب نظارہ تو اس بات کا خیال کرتے ہوئے ایک خاص بات میرے دل میں آئی اور معاً ایک نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔خدا کے فضل سے مجھے اس قسم کی طبیعت ملی ہے کہ میں اپنے جذبات کو روک سکتا ہوں۔مگر اس بات کو دیکھ کر میں بے بس ہو گیا۔اسی خوشی کے موقع پر مجھے حضرت عائشہہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔لکھا ہے کہ ایک دفعہ میدے کی روٹی حضرت عائشہ کے سامنے آئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔جب پوچھا گیا کہ آپ کیوں روتی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول کریم ملی شد علیہ وسلم کے وقت میں جو کی روٹی کھاتے تھے اور چکیاں اور چھلنیاں اس وقت نہ تھیں جو کی روٹی بے چھنے آٹے کی ہم پکا کر آپ کے سامنے رکھ دیتے اور آپ کھا لیتے۔اب اس میدہ کی روٹی کو دیکھ کر اور اس حالت کو یاد کرکے یہ میرے گلے میں پھنستی ہے۔مجھے بھی یہ نظارہ دیکھ کر ایک بڑا نظارہ یاد آگیا۔وہ وقت جب منارہ کے بنانے کا سوال در پیش تھا۔اس پر میری نظر آج سے میں سال پچھے جاپڑی۔چھوٹی مسجد جس میں اس وقت چند آدمی بیٹھ سکتے تھے۔وہاں حضرت صاحب بیٹھے تھے۔منارہ کے بنانے کی تجویز در پیش تھی اور دس ہزار کا حضرت صاحب نے تخمینہ لگایا تھا تا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشنگوئی کی تھی وہ اپنے ظاہری لفظوں کے لحاظ سے بھی پوری کر دی جائے۔اب سوال یہ تھا کہ دس ہزار روپیہ کہاں سے آئے کیونکہ اس وقت جماعت کی حالت زیادہ کمزور تھی۔اس کے لئے دس ہزار کو سو سو روپیہ کے حصوں پر فقہ تقسیم کیا گیا اور اس فہرست کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے لوگوں پر بھی سور و پید لگا یا گیا جن کی حیثیت سورد پید ادا کرنے کی نہ تھی اور اس وقت گویا دس ہزار روپیہ کا جمع کرنا ایک امر محال تھا۔اس وقت بعض لوگوں نے اپنی حالت اور حیثیت سے بڑھ کر چندہ دیا۔چنانچہ منشی شادی خان صاحب پر بھی سورد پیر غالباً لگا تھا۔انھوں نے اپنا تمام گھر کا سامان بیچ کر تین سو روپیہ پیش کردیا اس پر حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ شادی خان صاحب سیالکوٹی نے بھی وہی نمونہ دکھایا ہے جو حضرت ابو بکر نے دکھایا تھا کہ سوائے خدا کے اپنے گھر میں کچھ نہیں چھوڑا۔جب میاں شادی خان نے بی سُنا تو گھر میں جو چار پائیاں موجود تھیں ان کو بھی فروخت کر ڈالا اور انکی رقم بھی حضرت صاحب کے حضور پیش کر دی۔مگر باوجود اتنی کوششوں کے یہ روپیہ پورا نہ ہوا۔مجھے یاد ہے کہ اس کام کے لئے سیالکوٹ سے حضرت صاحب نے میر حسام الدین صاحب کو جو میر حامد شاہ صاحب کے والد تھے بلا یا۔کیونکہ ان کو عمارت کا مذاق تھا۔جو بھٹہ تیار کیا گیا ، اس پر اتنا خرچ آگیا کہ خیال تھا کہ - د ترمذى البواب الزهد باب ما جاء فى معيشة النبي صلى الله عليه وسلم واها