انوارالعلوم (جلد 5) — Page 360
انوار العلوم جلد ۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں جیسے کہ سکھ وہ ہرگز اسبات کا اعلان نہیں کریں گے کہ جین ہندو نہیں ہیں بلکہ ہندوؤں سے ان کا علیحدہ مذہب ہے لیکن اگر وہ یہ بھی کہدیں کہ یہ لوگ تو علیحدہ مذہب رکھتے ہیں تو یہی بات قرآن کریم کے ماننے والوں کی طرف سے بھی کسی جاسکتی ہے کہ جس وقت کسی شخص نے قرآن کریم کا انکار کیا اسی وقت وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور مسلمان نہیں رہتا۔ویدوں کے متعلق ہندوؤں کا پرانا فیصلہ پروفیسر صاحب کو تو اس زمانہ میں چند آدمی ایسے ملے ہیں جنھوں نے اسلام کی تعلیمات کے خلاف قلم اُٹھائی ہے مگر میں ان کی توجہ اس طرف پھیر تا ہوں کہ اگر یہ امل جو انھوں نے پیش کیا ہے درست ہے تو پھر ہزاروں سال سے وید کی تعلیم دنیا کے لئے ناکافی ثابت ہو چکی ہے کیونکہ یہ کروڑوں بدھ جو ہندوستان میں بستے تھے اور کروڑوں جینی جواب تک ہندوستان میں موجود ہیں آج سے دو ہزار سال پہلے کے زمانہ سے ویدک تعلیم کو خیر باد کہ چکے ہیں۔یہ لوگ پہلے ہندو ہی تھے اور ویدوں کے ماننے والے تھے کیونکہ بدھ اور جینی کہیں باہر سے نہیں آئے یہ دونوں مذہب ہندوستان میں ہی پیدا ہوئے اور اسی ملک کے لوگوں نے ان کو قبول کیا۔پس آج سے دو ہزار سال پہلے کروڑوں کی تعداد میں ویدک تعلیم کو ماننے والے اپنے عمل سے اس امر کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ د یدک دنیا کی روز افزوں علمی ترقی کا ساتھ نہیں دے سکتی اور علوم جدیدہ کے حاصل کرنے والوں کے لئے تسلی کا موجب نہیں ہو سکتی۔تازه فیصله یہ فیصلہ تو پرانا ہے۔کئی کروڑر آدمیوں کا تازہ فیصلہ بھی اس کی تصدیق میں موجود ہے۔ہندوستان میں جو مسلمان اس وقت موجود ہیں ان میں سے اکثر اسی ملک کے باشندہ ہیں ان کا ویدوں کی تعلیم کو ترک کر کے اسلام کو قبول کر لینا کیا پروفیسر صاحب کے نزدیک اسی امر کا ثبوت ہوگا کہ ویدک تعلیم دنیا کی روز افزوں علمی ترقی کا ساتھ نہیں دے سکتی اور اب لوگوں کی تسلی کے لئے کافی نہیں۔اگر یہ بات نہیں تو وہ دوسروں کے لئے اس پیمانہ سے کیوں وزن کرتے ہیں جس پیمانہ سے وہ اپنے لئے وزن کرنے کے لئے تیار نہیں۔مگر میں انہی مثالوں پر بس نہیں کرتا۔میں پروفیسر صاحب کو ان کے نہایت واجب التعظیم لیڈروں کے اور ایسے ہی خیالات کی طرف توجہ دلاتا ہوں وہ ان پر غور کریں اور اس دلیل کی طاقت کو دیکھیں جو انھوں نے اسلام کے اثر کے خلاف دی ہے۔