انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 353

انوار العلوم جلد ۵ ۳۵۳ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب ضروری ہے ایک وسیع سوال ہے لیکن میرے نز دیک پروفیسر رام دیو صاحب کے لیکچر پر غور کرتے وقت اس کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔اس وقت اسی قدر کافی ہے کہ اس سوال کے جس پہلو کو پروفی رام دیو صاحب نے پیش کیا ہے اس پر روشنی ڈالی جائے۔پروفیسر صاحب بیان کرتے ہیں کہ اسلام اس لئے دنیا کا آئندہ مذہب نہیں ہو سکتا کہ اس کے پیرووں میں سے تعلیم یافتہ طبقہ اس کی تعلیم میں اپنے لئے تسلی نہیں پاتا۔یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ کسی مذہب کے چند افراد کا اس کی تعلیم پرستی نہ پانا اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ مذہب اب لوگوں کو تسلی نہیں دے سکتا۔میرے نزدیک پروفیسر رام دیو صاحب کا ایک تعلیم یافتہ جماعت کے سامنے اس قسم کا معیار پیش کرنا اس جماعت کی سخت ہتک ہے کیونکہ اس کے یعنی ہونگے کہ ان کے سامنے جس قدر لوگ بیٹھے تھے وہ عقل اور خرد سے ایسے خالی تھے کہ ان کے سامنے جو کچھ بھی بیان کر دیا جاتا وہ اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار تھے۔میرے نزدیک ہر ایک تعلیم یافتہ انسان بلکہ ہر ایک انسان اس امر سے واقف ہے کہ ہر ایک مذہب اور عقیدہ کے لوگوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو گو بظاہر ان کے ساتھ شامل ہوں مگر باطن میں یا تو ان سے بالکل علیحدہ ہوتے ہیں یا اس کے بعض خیالات سے ان کو اختلاف ہوتا ہے بس ایک تعلیم یافتہ جماعت کے سامنے یہ دلیل پیش کرنی کہ چونکہ اس کے کروڑوں افراد میں سے ایک دو ایسے آدمی بھی ہیں جو اس کی بعض تعلیموں سے اختلاف رکھتے ہیں اس لئے اس مذہب سے اب دنیا کو ہدایت نہیں ہو سکتی۔گویا انکی آنکھوں میں خاک جھونکنا ہے یا ان کی عقل اور ان کی حق طلبی پر حرف گیری کرنا ہے۔مسلمان کہلا کر اسلام کے خلاف کہنے والوں کی حقیقت پروفیسر رام دیو صاحب نے جن چند مسلمانوں کے اقوال کو اپنی تائید میں پیش کیا ہے وہ دو حالوں سے خالی نہیں ہیں یا تو ان لوگوں نے اسلام کے خلاف جو باتیں کہی ہیں اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اسلام سچا مذہب نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا اور یا ان کا یہ مطلب ہے کہ دوسرے لوگ جو ان مسائل کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرتے ہیں وہ اسلام کے مطابق نہیں بلکہ اسلام در حقیقت اس خیال کو پیش کرتا ہے جو انھوں نے بیان کیا ہے۔اگر پہلی صورت ہے یعنی وہ لوگ اسلام سے متنفر ہو گئے ہیں اور اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے قائل نہیں رہے اور قرآن کریم کو انسان کی تصنیف خیال کرتے ہیں اور رسول کریم