انوارالعلوم (جلد 5) — Page 328
انوار العلوم جلد ۵ PYA اسلام اور حریت و مساوات ثابت ہیں۔پھر اس پر ان کو کیوں اعتراض پیدا ہوا ؟ سوال دوم که حدیثیں ضعیف اور موضوع ہیں اور پھر وقتی حالات کے احادیث کا درجہ ماتحت ہیں۔ایک مستقل سوال ہے جس کا اس مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔بیشک احادیث اسی طرح یقینی نہیں ہیں جس طرح قرآن کریم یقینی ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کاروبار کی بنیاد بہت حد تک تاریخ پر ہے اور دنیا کی معتبر سے معتبر تاریخوں سے حدیث زیادہ یقینی اور معتبر ہے اور بعض حدیثیں تو اس تواتر سے پہنچتی ہیں کہ ان کے مضمون سے انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی ذات سے انکار کر دے۔کیونکہ علاوہ قولی تائید کے لاکھوں ، کروڑوں انسان ان کی عملی تائید بھی کرتے چلے آئے ہیں۔باقی رہا یہ کہ حدیثیں وقتی حالات کے ماتحت ہیں یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہوں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کو زندگی بھر اسلام کی اصل تعلیم کے متعلق نہ کوئی بات کہنے کا موقع ملا اور نہ کسی حکم پر عمل کرنے کا۔آپ کی زندگی کے تمام حالات اور آپ کے تمام اقوال صرف وقتی حالات کے ماتحت تھے۔نعوذ باللہ من ذلک۔اور اگر آپ یہ کہیں کہ بعض باتیں تو وقتی حالات کے ماتحت بھی ہوں گی۔پس حدیثوں کا معاملہ مشتبہ ہو گیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک بعض امور وقتی حالات کے متعلق بھی ہیں۔لیکن ان میں اور دائمی صداقتوں میں ہم اپنی اصول کے ماتحت فیصلہ کر سکتے ہیں جن کے ماتحت ہم قرآن کریم کی آیات متشابہات کا فیصلہ کر لیا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔کتاب اللہ کے سوا کسی کی بات ماننا تیرا سوال خواجہ صاحب کی مذکورہ بالا تحریر سے یہ پیدا ہوا تھا کہ کتاب اللہ کے سوا کسی اور شخص کی بات ماننی " اربَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ " (ال عمران : ۶۵) : ۶۵) میں داخل ہے خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔اگر خواجہ صاحب کا اس بات سے یہ مطلب ہے کہ بفرض محال اگر نبی خدا تعالی کی بات کے خلاف کہہ دے تو ہم اس کی بات نہیں مانیں گے۔تب تو گومیں اس قسم کے کلمہ گوگستاخی اور بے ادبی انبیاء کی قرار دوں گا۔لیکن اس امر کی تصدیق کروں گا کہ اگر اس صورت کو مکن سمجھ لیا جائے تو اس کا مضمون بیچا ہے۔مگر پھر اس صورت میں اس جگہ اس مضمون کے بیان کرنے کی حکمت سمجھ میں نہ آوے گی۔کیونکہ حدیث کو اس دلیل سے رد نہیں کیا جا سکتا کہ خدا تعالیٰ کے خلاف کوئی بھی بات کسے خواہ نبی ہی کیوں نہ