انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 315

انوار العلوم جلد ۵ ۳۱۵ اسلام اور حریت و مساوات غلط استعمال اور اس کی آیات کو بے محل طور پر مضمون میں درج کرنا یہ بھی عیب ہے میرے خط میں حریت و مساوات کی تمام اقسام کا انکار نہیں کیا گیا۔بلکہ سائل سے ان کی تعریف پوچھی گئی ہے۔میں لہ تعالیٰ کے فضل سے اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ اسلام نے کس حد تک اور کن معنوں میں حریت و مساوات کی تعلیم دی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے احکام کے مطابق اسلامی حریت کے اس حصہ کوجس کا قیام میری ذات سے متعلق ہے قائم کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔مگر سائل کے جوش اور تعصب کو دیکھ کر میں نے چاہا تھا کہ اس نے حریت و مساوات کی جو غلط تعریف اپنے ذہن میں رکھی ہوئی ہے اس کی تفصیل پہلے اسی کے قلم سے کروالوں پھر اس کو جواب دوں۔آپ نے نہ اس کے جواب کا انتظار کیا نہ خود اس کے قائم مقام بن کر ان الفاظ کی تفسیر اپنے خیالات کے مطابق کی۔بلکہ ایک ویسمی بات کا جواب دینے بیٹھ گئے عقلمند انسان کا کام نہیں ہوتا کہ سم الفاظ کا جواب دے۔جب تک حریت و مساوات کی تعریف سائل نہ کر لیتا میرا حق نہ تھا کہ میں اس کے سوالات کا تفصیلی جواب دیتا۔اور نہ میرا فرض تھا کہ حریت و مساوات کی پہلے خود تشریح کرتا اور پھر اسے بتاتا کہ ان ان معنوں میں فلاں فلاں محل پر حریت و مساوات کا قائم کرنا اسلامی احکام کے مطابق ہے اور فلاں فلاں معنوں میں فلاں فلال محل پر حریت و مساوات کا قائم کرنا دین یا عقل یا قواعد تمدن کے خلاف ہے۔اور یہ طوالت ایک خط برد است نہیں کر سکتا تھا۔پس میں نے وہ طریق اختیار کیا جو اس موقع پر بہترین ہوتا ہے کہ خود سائل سے ہی دریافت کر لیا کہ وہ حریت و مساوات کے کن معنوں اور اس کے کسی محل پر استعمال کے متعلق مجھے سے دریافت کرتا ہے جس جگہ بحث کا رنگ پیدا ہو یا بحث کا خطرہ ہو اس جگہ مسم سوال کا جواب زیر بحث مسئلہ کو اور پیچ دار بنا دیا کرتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی سے دریافت کرے کہ کیا کسی سے جبراً کوئی حکم منوانا بھی جائز ہے اور وہ آگے سے جواب دے دے کر نہیں۔تو اگلا آدمی اگر تو تعصب سے علیحدہ ہے اور جوش میں بھرا ہوا نہیں تو وہ اس کا مطلب سمجھ جائے گا لیکن اگر سائل غصہ کی حالت میں ہے اور دوسرے پر الزام قائم کرنے کی فکر میں ہے تو وہ آگے سے کہ اُٹھے گا۔کیا بچوں سے جبراً بات منوائی نہیں جاتی۔کیا حکومت بعض باتیں جبراً نہیں منواتی ؟ کیا پاگلوں سے جبراً بات نہیں منوائی جاتی ؟ اور خواہ مخواہ بات کو لمبا کر دے گا چونکہ جن صاحب کے خط کا میں نے جواب لکھا ہے ان کی طرز تحریر سے بھی یہی ثابت ہوتا تھا کہ وہ محض الزام دینے کی فکر میں ہیں۔اس لئے ان سے اسی قسم کا برتاؤ کیا گیا جس کے وہ ستحق تھے اور پہلے ان سے ان الفاظ کے معنے اور ان کے استعمال کا محل دریافت کیا گیا تھا تاکہ ان کے جواب سے ہی ان کی کمزوری ان پر ثابت