انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 302

انوار العلوم جلد ۵ اسلام اور حریت و مساوات نے حقیقی بھائیوں اور دوسرے لوگوں میں فرق کیا ہے میں جب تک اس آیت کو ان آیات و احکام کے ماتحت نہ لایا جائے گا جن سے اس مسئلہ کی تفصیل معلوم ہوتی ہے اس آیت کو عام کر کے کامل مساوات کا ثبوت نکالنا غلط ہے۔اسلام میں مرد و عورت کے حقوق اس سے آگے خواجہ صاحب نے عورت اور مرد کی عدم مساوات کا سوال اُٹھایا ہے اور لکھا ہے کہ یہی ایک فرق ہے جسے عدم مساوات کے حق میں پیش کیا جاسکتا تھا لیکن اسلام نے اس فرق کو بھی مٹا دیا ہے اور عورت اور مرد کے حقوق کو مساوی قرار دیا ہے۔لیکن یہ دعویٰ خواجہ صاحب کا بالکل خلاف احکام اسلام ہے۔اسلام نے ہر رنگ میں عورت اور مرد کے حقوق کو مساوی نہیں رکھا بلکہ احکام کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ایک وہ احکام ہیں جو مرد و عورت کی انسانیت کو مد نظر رکھ کر دیے جاتے ہیں اس میں دونوں کو مساوات دی گئی ہے۔اور دونوں فریق کے لئے ایک قسم کے حکم ہیں۔مثلاً نماز ، روزه ، حج ، زکوٰۃ دونوں احکام میں مرد و عورت شامل ہیں اور دونوں کو یکساں ثواب ملنے کا وعدہ ہے۔یہ نہیں کہ عورت صرف مرد کا کھلونا ہو بلکہ اسے اس مقصد عالی کے حصول کے لئے جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اسی طرح مکلف کیا گیا ہے جس طرح مرد کو۔مگر وہ احکام جو انتظام اور ریاست کے متعلق ہیں ان میں مرد اور عورت میں امتیاز کیا گیا ہے اور مرد کو عورت پر فضیلت دی گئی ہے۔اور اگر اس تقسیم کو اسلام قائم نہ کرتا تو اسلام دین فطرت ہو ہی نہ سکتا تھا۔یہ فرق صرف اسلام نے ہی قائم کیا ہے اور کسی مذہب نے قائم نہیں کیا۔اور یہ ایک فضیلت ہے جو اسلام کو دوسرے مذاہب پر حاصل ہے ایک طرف تو وہ مساوات قائم کرتا ہے اور دوسری طرف وہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرتا کہ کوئی انتظام بلا اس کے نہیں چل سکتا کہ مختلف شرکاء میں سے ایک کی آواز کو سب کی آواز پر مقدم کیا جائے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مردوں کی نسبت فرماتا ہے کہ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء : ۳۵) یعنی مرد عورتوں کے اوپر نگران ہیں۔اور اس کی وجہ بھی بیان فرما دی کہ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَالنَاء : ۳۵ یعنی اس لئے ان کو نگران مقرر کیا گیا ہے کہ انسانی خلقت مرد کو نگرانی کا حق دیتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مرد کو ایسے قومی ملے ہیں جن کی وجہ سے وہ اشتراک خاندانی میں اس امر کا مستحق ہے کہ اس کی آوانہ