انوارالعلوم (جلد 5) — Page 203
انوار العلوم جلد ۵ ۲۰۳ ترک موالات اور احکام اسلام جنہوں نے جلیانوالہ باغ کے مقتولین کی یادگار کے لئے چندہ جمع کیا انہوں نے بھی قانون شکنی کے فعل کو سراہا اور آئندہ کے لئے لوگوں کو حکومت کے احکام کو پس پست ڈالنے کی ترغیب دے کر ہندوستان کے مستقبل کو تاریک کرنا چاہا۔پس ٹھنڈے دل سے غور کرو کہ اگر قانون شکنی کی روح کو اس طرح پیدا کیا گیا تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔گورنمنٹ برطانیہ کا خیال دل سے نکال کر یہ تو سوچو کہ اگر ہندوستانیوں کی اپنی حکومت ہو تو کیا تم اس کو جائز سمجھو گے کہ حکومت کے جس حکم کو کوئی درست نہ سمجھے اس کو رد کرے اور اس کا مقابلہ کرے جنا کیا کسی حکومت کا کوئی بھی حکم ہے کہ جسے ساری کی ساری رعایا درست سمجھتی ہو ؟ پھر کیا جو لوگ کسی حکم کو درست نہ بجھیں ان کاحق ہے کہ اس حکم کو مانے سے انکار کر دیں ؟ اگر یہ طریق جائز قرار دیا جائے تو کیا کوئی حکومت بھی جو خواہ کیسی ہی آزاد اور کیسی ہی اعلیٰ ہو قائم رہ سکتی ہے ؟ ذرا سوچیں تو سہی کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ کیا آپ پسند کریں گے ؟ کہ ہندوستان کی حکومت مثلاً یہ حکم دے کہ چور کو قید کیا جائے لیکن ایک مسلمان جس کے مذہب میں چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے وہ اس حکم کو غیر منصفانہ اور ظالمانہ قرار دے کر خود چور کے ہاتھ کاٹ دے۔یا ہندوستان کی حکومت زانی کو قانونی مجرم ہ قرار دے تو ایک مسلمان اس کو اپنے طور پر پکڑ کر رحم کر دے یا اور اسی قسم کے معاملات میں جو جس حکم کو ظالمانہ سمجھے اس کے خلاف کرنے لگ جائے۔یاد رکھیں کہ وہی ملک ترقی کر سکتا ہے جس میں قانون کے احترام کا مادہ ہو۔میں نہیں کہہ سکتا کہ آپ لوگوں کا کیا خیال ہو گا۔مگر میں اپنی نسبت کہ سکتا ہوں کہ میں تو اپنی اولاد کے متعلق ہرگز یہ پسند نہ کروں گا کہ وہ کبھی بھی کسی حکومت کے احکام کو ظالمانہ قرار دے کر ان کی تعمیل سے انکار کر دے۔ہاں میں یہ پسند کروں گا کہ اگر وہ فی الواقع کسی حکومت کو ظالم سمجھتی ہے تو اپنے منافع کا خیال چھوڑ کر اس کی حدود سے باہر نکل جائے اور دنیوی فوائد کو اپنے ضمیر کی تسلی پر قربان کر دے۔ہاں یہ بھی ضرور ہے کہ اس امرکا خیال بھی رکھ لے کہ بھی انسان فیصلہ کرنے میں غلطی بھی کرتا ہے پس چھوٹے چھوٹے امور پر اور جلد بازی سے غصہ میں نہ آجاوے۔شائد بعض لوگ کہہ دیں کہ تم میں وہ قومی جوش اور غیرت نہیں ہے جو ہم میں ہے۔مگر انہیں یاد رہے کہ قومی غیرت اس چیز کا نام نہیں کہ انسان موقع بے موقع طیش میں آجایا کرے اور اس غصہ کی حالت میں خود اپنی قوم کے اخلاق پر دھبہ لگا دے بلکہ قومی غیرت اس کا نام ہے کہ انسان اپنے جوشوں پر قابو رکھے اور اپنی قوم کے نام کو خلاف مذہب اور خلاف اخلاق اور خلاف تمدن افعال کے الزام سے پاک رکھے۔پس قومی غیرت کا فقدان نہیں بلکہ خود قومی غیرت مجھے اس امر پر مجبور کرتی ہے کہ ہندوستان کے نیک نام کی حفاظت کروں اور یہ میرے رب کی محبت ہے جو مجھے آمادہ کرتی ہے کہ میں اس کے بندوں !