انوارالعلوم (جلد 5) — Page 179
انوار العلوم جلد ۵ 149 معاہدہ ترکیہ اور سلمانوں کا آئندہ رویہ اور اس سوال کے جواب میں کہ اگر اتحادی اس معاہدہ کو نرم نہ کریں تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔مختلف آراء پیش کی گئی ہیں بعض نے ہجرت کی تجویز پیش کی ہے ، بعض نے جہاد عام کو پسند کیا ہے ، بعض نے قطع تعلقی کی پالیسی کو سراہا ہے۔مگر میرے نزدیک ان سب تجاویز میں سے ایک تجویز بھی درست نہیں اور ناقابل عمل ہے۔ہندوستان کی سات کروڑ آبادی ہندوستان کو چھوڑ کر باہر نہیں جاسکتی اور نہ اس کے باہر جانے کی کوئی غرض اور فائدہ ہے۔ہجرت اس وقت ضروری ہوتی ہے جبکہ اس علاقہ میں جہاں کوئی شخص رہتا ہے اس کو ان احکام شرعیہ کے بجالانے کی آزادی نہ ہو جو افراد جماعت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کوئی حکم ایسا نہیں ہے جو افراد مسلمانان سے تعلق رکھتا ہو اور جس کا بجا لانا اس ملک میں ناممکن ہو۔اور پھر ملی پہلو اس تجویز کا لیا جاوے تو بھی اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔کسی قدر آدمی ہیں جو اس تجویز پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوں گے ہیں علاوہ اس کے کہ یہ تجویز شریعت کے خلاف ہوگی اس کو پیش کر کے سوائے اپنی سبکی کرانے اور لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہونے کے اور کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو اس تحریک کو پیش کرنے والے ہیں وہ خود بھی اس تحریک پر عمل پیرا نہیں ہوئے۔دوسری تجویز جہاد کی ہے۔جہاد اس ملک میں رہ کر جائز نہیں اس ملک میں رہنے کے یہ معنے ہیں کہ ہم برطانیہ کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں اور ہمارا اس ملک میں رہنا بھی ایک عملی معاہدہ ہے جو ہم حکومت برطانیہ سے کرتے ہیں پس اس ملک میں رہتے ہوئے کسی طرح بھی گورنمنٹ کا مقابلہ کرنا ایک سخت غداری ہوگی اور غداری اسلام میں جائز نہیں ہیں سب سے زیادہ اپنا مذہب عزیز ہونا چاہئے۔اگر ہم تمام دنیا کی حکومت کے لئے بھی اپنا مذہب قربان کر دیتے ہیں تو ہم گھاٹے میں رہیں گے پس حکومت برطانیہ کے زیر سایہ رہتے ہوئے اس کی حفاظت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا یا اس کے متعلق تدابیر سوچنا ایک مسلمان کے لئے جو اپنے مذہب کی کچھ بھی قدر کرتا ہے نا جائز ہے اور اسلام کی عظمت کرنے والا مسلم اس تجویز پر بھی عمل نہیں کر سکتا۔اگر کہا جاوے کہ باہر جاکر جہاد کریں تو اول تو اس سوال کیساتھ پھر ہجرت کا سوال آجا دے گا جسے میں پہلے ناجائز اور ناممکن ثابت کر چکا ہوں۔دوم جہاد کے لئے یہ شرط ہے کہ اس حکومت سے کیا جاوے جو اسلام سے مٹانے کے لئے مسلمانوں پر حملہ کرتی ہے اور ترکوں سے جنگ کرنے میں اتحادیوں نے ابتداء نہیں کی نہ اس جنگ کی وجہ اسلام کو مٹانا تھی ہیں جب تک یہ ثابت نہ کیا جاوے کہ اس جنگ کی ابتداء اتحادیوں کی