انوارالعلوم (جلد 5) — Page 176
انوارالعلوم جلد ۵ 164 معابده ترکیا اور سلمانوں کا آئندہ روید مسلمانوں کی زبان پر گالیاں سنی جاتی ہیں وہ تالیاں بجاتے سیٹیاں مارتے اور اپنے مخالف خیالات والوں سے استہزاء کرنے کے لئے بندروں کی طرح ہزاروں قسم کی حرکات ناشائستہ کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے عظیم الشان خدمت اسلام کی ہے۔اسے نمائندگان اسلام ! اس وقت جبکہ آپ نہایت سنجیدگی سے دولت عالیہ عثمانیہ کے مستقبل پر غور کرنے کے لئے بیٹھے ہیں اور آپ کے دلوں میں غم اور فکر کا ہجوم ہے۔اس وقت ہندوستان کے مختلف گوشوں میں ناکردہ گناہ بچے اور بے قصور عورتیں اس شدت گرما میں اس قصور میں پیاسے تڑپ رہے ہیں کہ ان کے والدین یا شوہر کیوں سلطان المعظم کی خلافت کے قائل نہیں اور مسلمان کہنے والے لوگوں نے نہ معلوم کس کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس پانی سے بھی ان کو روک دیا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا فرسے کا فرانسان کو بھی نہیں روکتا۔اب آپ سوچیں کہ کیا ان کی آہیں اور ان کی چیخ و پکار خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلا کر اسی بات کی درخواست کر رہی ہوگی کہ ہم پر مسلم کرنے والوں کے کام میں برکت دے اور ان کی مرادوں کو پورا کر جبکہ کربلا اور نحیف کے مقدس میدانوں کی حفاظت کا سوال پیدا ہو رہا ہے۔خود ہندوستان میں اس قسم کے نمونے دکھائے جارہے ہیں جو یزید اور اس کے ساتھیوں نے دکھائے محض اس اختلاف رائے پر کہ کیوں احمدی خلافت عثمانیہ کے قائل نہیں۔ان کو پانی سے روکا جاتا ہے ، ان کو خرید و فروخت سے باز رکھا جاتا ہے۔ان کے گھروں میں کام کرنے سے مہتروں کو باز رکھا جاتا ہے اور ان پر نماز ادا کرتے وقت کنگروں کی بارش کی جاتی ہے۔کیا اس تنگی کے وقت میں اسی قسم کی انابت سے مسلمانوں کو اللہ تعالٰی کے فضل کو اپنی طرف کھینچنے کی سعی کرنی چاہئے تھی۔اور کیا اگران کے اس ظلم سے تنگ آکر احمدی منافقت سے ان کے ہم خیال ہو جاویں کیونکہ جبر سے دلوں کو تسلی نہیں ملا کرتی تو کیا ایسے منافقوں کی امداد سے مسلمان کامیاب ہو جاویں گے۔یہ وقت تو ایسا تھا کہ مسلمانوں میں جرات اور دلیری پیدا کی جاتی اور ان کو دلیر بنایا جاتا نہ کہ منافقت پر ان کو مجبور کیا جاتا۔کیا ان جاہلوں کو کوئی اس قدر سمجھانے والا نہیں ہے کہ جو لوگ ان سے ڈر کر اپنے صحیح خیالات کو چھوڑ دیں گے وہ ان سے زیادہ طاقت ور لوگوں کے دباؤ سے کیا موقع ملنے پر ان کے مخالف نہ بن جاویں گے ؟ غرض مجھے افسوس ہے کہ اس کرب و اندوہ کے زمانہ میں وہ صحیح رویہ اختیار نہیں کیا گیا جس سے کامیابی کی امید ہو سکتی تھی۔لیکن اب جبکہ پھر آپ لوگ دوبارہ اس اہم مسئلہ پر غور کرنے کے لئے جمع ہو رہے ہیں تو میں اخلاص اور محبت سے آپ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں شاید کسی۔سی سچے خیر خواہ اسلام کے دل پر میری بات اثر کرے اور وہ خدمت اسلام کے لئے کمر ہمت باندھ کر کھڑا ہو جاوے۔