انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 110

If۔حکم زمانہ جہالت کے لئے تھا اب ہفتہ میں صرف ایک بار کافی ہے۔اسی طرح روزہ یہ ہونا چاہیئے کہ پیٹ بھر کے کھانا نہ کھایا جائے نہ یہ کہ سارا دن بھوکا پیاسا رہنا چاہئے۔اسی طرح بعض مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا کہ دیا کہ اسلام سو سال کے اندر اندر دنیا سے مٹ جائے گا۔عام لوگوں کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کلمہ تک کلمہ تک نہ جاننے والے مسلمان نہیں جانتے۔پہلے سنا کرتے تھے کہ ایسے بھی مسلمان ہیں جو کلمہ بھی نہیں جانتے۔مگر سلسلہ احمدیہ میں داخل کرتے وقت چونکہ کلمہ پڑھایا جاتا ہے اس لئے اس بات کی تصدیق ہوگئی۔بیسیوں مرد اور عورتیں ایسی آتی ہیں جنہیں کلمہ ایک ایک لفظ کر کے پڑھانا پڑتا ہے۔ایک پٹھان کا قصہ سُنا کرتے تھے کہ اس نے ایک ہندو کو پکڑ لیا اور کہا پڑھ کلمہ۔ہندو نے میں کلمہ جانتا نہیں کیا پڑھوں۔پٹھان نے کہا پڑھ ورنہ مار دوں گا۔آخر اس نے مجبور ہو کر کہا کہ اچھا پڑھاؤ پڑھتا ہوں۔پٹھان نے کہا خود پڑھ۔ہندو نے کہا میں جانتا نہیں پڑھوں کیا پٹھان نے کہا معلوم ہوتا ہے تمہاری قسمت خراب ہے ورنہ آج تو مسلمان ہو جاتا۔کلمہ مجھے بھی نہیں آتا۔میں اس کو ایک لطیفہ سمجھتا تھا اور اب بھی سمجھتا ہوں کہ شائد یہ واقعہ نہ ہو مسلمانوں کی حالت کا نقشہ کھینچنے کے لئے یہ کہانی بنائی گئی ہو۔مگر بیسیوں کی تعداد میں مرد اور عورتیں میں نے ایسی دیکھی ہیں جو باوجود میرے کتنے کے کلمہ کے الفاظ دہرا نہیں سکتیں۔یہ حالت ہے اسلام کی اور اس اسلام کی جو الیسی کشش رکھتا تھا کہ اس نے وحشیوں اور جاہلوں کو مدبر اور مکمان بنا دیا۔اس کے ماننے والوں کا آج یہ حال ہے کہ ایک چھوٹا سا کلمہ بھی نہیں پڑھ سکتے۔پھر راجپوتانہ اور علیگڑھ کے پاس پاس ایسے دیات ہیں جہاں لوگ کہلاتے تو مسلمان ہیں لیکن انہوں نے گھروں میں بت رکھے ہوئے ہیں اور ہندوؤں کی تمام رسمیں بجا لاتے ہیں۔اسلام پر اندرونی بیرونی حملے تو آج وہ زمانہ ہے جبکہ اسلام پر اندرونی اور بیرونی دونوں طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔مسلمانوں کی اپنی جو حالت ہے اس کے متعلق کسی قدر تو میں نے بتا دیا ہے اور عام طور پر سب لوگ جانتے ہیں۔جاہل اور بے علم لوگ یوں اسلام سے دور ہو چکے ہیں اور انگریزی تعلیم یافتہ طرح طرح شکوک اور شبہات اُٹھا کہ اسلام سے متنفر ہو رہے ہیں۔کہیں ایویلیوشن تھیوری پیش کرتے ہیں کہ انسان ترقی کرتے کرتے موجودہ حالت کو پہنچ گیا ہے نہ کہ خدا نے اسے ایسا ہی پیدا کیا ہے۔کہیں سائنس کی تعلیم کے غلط ننا سنج