انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 109

انوار العلوم جلد ۵ 1-9 وہ کیوں دیتا ہے کیا مسلمان کے معنی فریبی اور دغا باز اور بد عہد کے ہیں ؟ تو مسلمانوں کی یہ حالت ہے اور اس کے لئے کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں۔خود مسلمان شاعروں کے شعر دیکھ لو۔مسلمانوں کی کیا حالت بیان کرتے ہیں۔حالی جو فوت ہو گئے ہیں ان کے دل میں مسلمانوں کا دردتھا۔ان کے شعر دیکھ لئے جائیں وہ کیا کہتے ہیں۔میں نے ایک مصنف کی کتاب پڑھی ہے وہ ہمارے متعلق لکھتا ہے یہ لوگ کہتے ہیں قرآن میں یہ خوبی ہے اور حدیث میں یہ لیکن ہم ان باتوں کو کیا کریں ہم یہ دیکھیں گے کہ عملی طور پر اسلام کیا ہے۔اس کے بعد وہ لکھتا ہے۔چلو اسلامی ممالک میں چلیں اور دیکھیں مسلمان کہلانے والوں کی کیا حالت ہے۔یہ اعتراض گو غلط ہے اور اسلام کی صداقت پر اس کی وجہ سے کوئی حرف نہیں آتا۔تاہم ایسا ہے کہ ایک مسلمان سن کر شرمندہ ضرور ہو جاتا ہے ولایت میں ایک عیسائی ان کتابوں کو پڑھ کر جو اسلام کی تائید میں لکھی گئیں مسلمان ہوگیا اور اس نے وہ ایرادہ کیا کہ چلو ہندوستان چل کر ان لوگوں کو دیکھیں جو مسلمان ہیں۔اس میں کوئی نقص ہوگا کہ بد قسمتی سے ایسے وقت میں ہندوستان کی ایک ریاست میں پہنچا جبکہ محترم کے ایام تھے اور مسلمان کہلانے والے شیر چیتے کی کھالیں بین کرناچ رہے تھے۔یہ دیکھ کر اس نے کہا جس مذہب کے ماننے والوں کی عملی حالت یہ ہو اسے کوئی انسان قبول نہیں کر سکتا اور وہ مرتد ہو گیا۔اس پرمیں نے اس روئیں کو خط لکھا۔اب اس نے محرم کے متعلق ایسی قیود لگا دی ہیں کہ بہت کم خلاف انسانیت باتیں کی جاتی ہیں۔تو اس زمانہ میں مسلمانوں کی ایسی حالت ہو گئی ہے کہ جسے دیکھ کر رونا آتا ہے۔دنیا کے سارے کے سارے عیب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے جاتے ہیں۔اگر اس وقت میں ان کو بیان کروں تو ہر مؤمن کے جسم کو کپکپی شروع ہو جائے۔مگر بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہر ایک جانتا ہے۔یہ تو عملی کمزوری کی وجہ سے ہوا لیکن مسلمانوں مسلمان کہلانے والے اسلام کے خلاف نے اسی پر کیس نہیں کی بلکہ اسلام کے خلاف خود لیکچر دیتے اور کیا اس وقت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے وقت میں بہت بڑا فرق ہو گیا ہے اس لئے وہ باتیں جو اس زمانہ میں کی گئیں اب نہیں ہو سکتیں۔چنانچہ ایک شخص نے تجویز پیش کی کہ چونکہ پتلون پہن کر سجدہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ جاہل لوگوں کے لئے تھا اس لئے اب اس طرح نماز پڑھنی چاہئے کہ لوگ بینچ پر بیٹھ کر میز پر سر جھکا لیا کریں۔اسی طرح ہر روز نماز پڑھنے کا