انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 90

انوار العلوم جلد ۵ جماعت احمد سید کی ذمہ داریاں کام کرنے والوں کا فرض اسی طرح جن لوگوں کے سپرد کام ہو سکا یہاں کی جماعت کا امیر مقرر ہے اور اس کے ماتحت اور کام کرنے والے ہیں۔ان کا بھی فرض ہے کہ وہ یہ نہ کہیں کہ ہم چونکہ افر بنائے گئے ہیں، اس لئے ہم ہی اپنی ہر ایک بات منوائیں گے۔اپنی بات منوانے کا بہترین طریق یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی کی بھی مان لی جائے۔اپنی ہی بات منوانے کا وہی موقع ہوتا ہے جبکہ انسان دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ سمجھتا ہو کہ میں اس کے خلاف مان ہی نہیں سکتا۔ورنہ تھوڑا بہت نقصان اُٹھا کر بھی دوسروں کی بات مان لینی چاہئے تاکہ دوسروں کے احساسات کو صدمہ نہ پہنچے۔اسی طرح آپس کے معاملات کے متعلق یہ بات مختلف طبائع کا خیال رکھنا ضروری ہے۔بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ طبائع مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔بعض سخت ہوتی ہیں اور بعض نرم جو سخت ہوتی ہیں انھیں تھوڑی سی بات پر بھی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔تو دوسروں کے ساتھ سلوک اور معاملہ کرتے وقت ان کی طبائع کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔انتظام قائم رکھنے کے لئے اسلام میں امیر رکھا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ جس طرح وہ کسے اسی طرح کرو۔لیکن معاملہ اور سلوک کرنے میں امیر کا یہ حق نہیں ہے کہ کسی کو حقیر اور اونی سمجھے۔حتی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ حقی نہیں کہ کسی کو حقیر سمجھیں۔کجا یہ کہ ان کے خلفاء میں سے کسی کو یہ حق ہو۔اور پھر کجا یہ کہ ان کے خلفاء کے غلاموں کے غلاموں کو یہ حق ہو تو خود نبیوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ دوسروں کو حقیر سمجھیں۔اس سے میری مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نہیوں کو ایسا کرنے سے خود بچاتا ہے۔اور ان کے وہم و گمان میں بھی کسی کی تحقیر نہیں آتی۔جس پر خدا احسان کرتا ہے وہ اور مجھکتا ہے تو خدا تعالیٰ جس کو بڑا بناتا ہے وہ خود سب سے نیچے ہو کر رہتا ہے۔کیونکہ جس کو خدا تعالیٰ کوئی درجہ دیتا ہے اس پر احسان کرتا ہے اور احسان ایک بوجھ ہوتا ہے اور بوجھ سے گردن اونچی نہیں ہوا کرتی بلکہ نیچی رہتی ہے۔ایک ایسا شخص جس پر خدا تعالیٰ کوئی احسان کرتا ہے اور وہ تکبر کرتا ہے اس کے تخمیر کرنے کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ یا تو وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ مجھے ملا ہے میرا حق تھا یا یہ کہ وہ اس کو اپنے لئے عزت ہی نہیں سمجھتا۔لیکن یہ دونوں دھو کے ہیں اور سخت خطرناک دھو کے ہیں جن کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔اس لئے ہر جگہ کے کارکنوں اور خصوصاً لاہور کے کارکنوں کو جو اس وقت میرے مخاطب ہیں چاہئے کہ تواضع اور فروتنی اختیار کریں