انوارالعلوم (جلد 4) — Page 61
لوم جلد ۲ 41 ربوبیت باری تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہے ہے مگر نہیں ہمارا بھی وہی خدا ہے اس لئے ضروری ہے کہ جو انعامات اس نے پہلے لوگوں پر کئے وہی ہم پر کرے اور جس طرح ان کو اپنے قرب کا شرف بخشا اسی طرح ہمیں بھی بخشے۔پس AND NANGANAGE رَبِّ الْعَلَمِيْنَ سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وہی مذہب ہو سکتا ہے جو یہ تعلیم دے کہ خدا تعالیٰ ہر زمانہ میں اپنے بندوں کی روحانی تربیت کرتا ہے اور اسی طرح کرتا ہے جیسے پہلے کرتا تھا۔ہاں اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ کامل ہو چکی ہے البتہ یہ ضرورت ہے کہ اس پر عمل کرانے والے لوگ آتے رہیں اور جو زائد باتیں اس میں مل گئی ہوں ان کو دور کر کے اصل شریعت کو لوگوں کے سامنے رکھ دیں۔یہی ایک ایسی بات ہے کہ جو تمام مذاہب کا فیصلہ کر دیتی ہے۔دیگر مذاہب خدا تعالیٰ کو رب العلمین کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی اپنے سوا باقی سب کو بالکل جھوٹا کہتے ہیں اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی روحانی ربوبیت مکان کے علاوہ زمانہ کے لحاظ سے بھی ایسی محدود ہے کہ اب وہ بھی اس سے محروم ہیں مگر اسلام کی یہ تعلیم نہیں۔اسلام خدا تعالیٰ کو حقیقی معنوں میں رب العالمین مانتا ہے اور اس بات کا مدعی ہے کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت ہمیشہ سے تمام اقوام کے لئے رہی ہے اور کسی زمانہ سے مخصوص نہیں۔ہاں وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اس وقت سوائے اس کے دیگر مذاہب خدا تک نہیں پہنچا سکتے کیونکہ وہ اب اپنی اصلی حالت سے بگڑ گئے ہیں اور زمانہ حال کی ضروریات کے بھی مطابق نہیں اور اس بات کا تو خود ان کو بھی اقرار ہے کہ اس وقت ان پر چل کر فی الواقع کوئی شخص خدا تعالیٰ سے ملاقی نہیں ہو سکتا۔پس خدا تعالیٰ کی صفت رب العالمین جس کے مخالفین اسلام بھی قائل ہیں اسلام کے دعویٰ کی تائید کرتی ہے۔اس بات پر تمام مذاہب کے لوگوں کو غور کرنا چاہئے کہ جب وہ مانتے ہیں کہ قابل غور بات خدا ہم سب کا رب ہے اور اسی طرح کا رب ہے جس طرح ہم سے پہلوں کا تھا۔پس اگر واقع میں وہ ہمارا بھی رب ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم سے کئی سو سال پہلے تو کلام کرتا تھا مگر اب نہیں کرتا۔اس کا جواب ان کے مذہب کوئی نہیں دے سکیں گے لیکن اسلام کہتا ہے کہ اب بھی خدا کلام کرتا ہے اور اس کے ثبوت میں آنحضرت ا نے فرمایا ہے کہ اسلام میں خدا ہر زمانہ میں ایسے لوگ بھیجے گا جو خدا سے کلام پاکر لوگوں کی اصلاح کریں گے اور اللہ سے علم پائیں گے۔(ابو داؤد کتا ابوداود کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن المائة، چنانچہ ایسے لوگ اسلام میں ہوتے رہے ہیں اور اس زمانہ میں بھی ایک انسان ہوا ہے جو اس بات کا مدعی تھا کہ میں