انوارالعلوم (جلد 4) — Page 637
رالعلوم جلد واقعات خلافت علوی حالت میں ان کا خلافت کو منظور کر لینا ایسی جرأت اور دلیری کی بات تھی جو نہایت ہی قابل تعریف تھی کہ انہوں نے اپنی عزت اور اپنی ذات کی اسلام کے مقابلہ میں کوئی پرواہ نہ کی اور اتنا بڑا بوجھ اٹھا لیا۔آئے حضرت علی جب خلیفہ ہو گئے اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے اس شرط پر بیعت کی کہ قرآن کے احکام کی اتباع کی جائے گی اور شریعت کے احکام کو مد نظر ر کھا جائے گا۔جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ حضرت عثمان کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔مگر اس وقت حالت یہ تھی کہ باوجود اس کے کہ حضرت علی خلیفہ تھے مدینہ باغیوں کی چھاؤنی بنا ہوا تھا۔چند دن کے بعد حضرت طلحہ اور زبیر حضرت علی کے پاس گئے اور جاکر کہا کہ باغیوں سے بدلا لیجئے۔انہوں نے پوچھا مدینہ کا حاکم میں ہوں یا باغی۔انہوں نے کہا کہ ابھی تو باغی ہی ہیں۔حضرت علی نے کہا پھر میں ان سے کس طرح بدلا لے سکتا ہوں جب تک عام جوش ٹھنڈا نہ ہو باہر سے مدد نہ انتظام نہ ہو اس وقت تک کیا ہو سکتا ہے اس بات کو انہوں نے مان لیا۔اس وقت مدینہ میں تین قسم کے مفسد لوگ تھے ایک باغی ، دوسرے بدوی جو لوٹ مار کے لئے آگئے تھے تیرے غلام جو سب کے سب بے دین تھے۔حضرت علی نے تجویز کی کہ آہستہ آہستہ ان کو مدینہ سے نکالیں۔چنانچہ انہوں نے مسجد میں اعلان کیا کہ ہر ایک غلام اپنے آقا کے ہاں چلا جائے ورنہ میں اس کی طرف سے خدا کے سامنے بری ہوں۔باغی جو بہت چالاک اور ہوشیار تھے انہوں نے خیال کیا کہ اس طرح ہم کو کمزور کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔اس پرا پر انہوں نے کہہ دیا کہ کوئی باہر نہیں جائے گا اور کوئی اس حکم کو نہ مانے۔پھر حضرت علی نے بدوؤں کے متعلق اعلان کیا کہ گھروں کو چلے جائیں اس پر بھی انکار کر دیا گیا۔ادھر تو یہ حالت تھی۔اور ادھر بعض صحابہ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ قاتلوں کو سزا دی جائے اور ہمیں قرآن کے حکم پر عمل کرنا چاہئے خواہ ہماری جان بھی چلی جائے۔حضرت علی فرماتے کہ قرآن کا حکم قاتل کو قتل کرنا ہے لیکن یہ نہیں ہے کہ فورا قتل کر دیا جائے۔اس لئے فی الحال اس بات کو نہیں اٹھانا چاہئے۔اس طرح فتنہ اور زیادہ بڑھ جائے گا اس پر ان کے متعلق کہا گیا کہ باغیوں کی طرف داری کرتے ہیں۔اور صحابہ مدینہ چھوڑ کر باہر جانے لگے۔حضرت طلحہ اور زبیر مدینہ چھوڑ کر مکہ پہنچے۔حضرت عائشہ پہلے سے وہاں گئی ہوئی تھیں۔جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علی قاتلوں کو سزا نہیں دیتے تو انہوں نے ارادہ کر لیا کہ ابھی ان کو سزا دینی چاہئے۔