انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 635

۶۳ واقعات خلافت علوی جائیں گے۔لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کی ظاہری فتوحات کو دیکھا اور ان کی قوت اور شوکت کا ظاہری طور پر مقابلہ کرنے کے اپنے آپ کو نا قابل پایا تو انہوں نے مسلمانوں کے اندر داخل ہو کر دعا اور فریب سے ان کو مٹانے کی کوشش شروع کر دی۔ایسے ہی لوگوں نے اسلام میں فتنہ کی بنیاد رکھی۔اور ان لوگوں کو اول اول اپنے ساتھ ملا لیا جن کی تربیت پورے طور پر اسلام میں نہ ہوئی تھی۔اس کے بعد حضور نے فرمایا۔حضرت عثمان کے زمانہ میں جو فتنہ اٹھا۔اس میں اور حضرت علی کے زمانہ کے فتنہ میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔اور وہ یہ کہ حضرت عثمان کے خلاف جو لوگ کھڑے ہوئے وہ اسلام میں کوئی درجہ نہ رکھتے تھے بلکہ فاسق و فاجر تھے لیکن ان کے بعد جو جھگڑا ہوا اس میں دونوں طرف بڑے بڑے جلیل القدر انسان نظر آتے ہیں۔یہ بہت بھیانک نظارہ ہے۔اس کے لئے تمہید کے طور پر میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اختلاف خواہ کسی دینی امر میں ہو یا دنیوی میں ہمیشہ اس کی وجہ سے کوئی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ایک اختلاف کو تو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت قرار دیا ہے۔مگر ایک اختلاف رحمت تو نہیں ہو تا لیکن اس کے کرنے والے کو فاسق اور فاجر بھی نہیں کہا جاسکتا۔اور وہ ایسا اختلاف ہے کہ اختلاف کرنے والے کے پاس اس کی تائید میں کافی وجوہ ہوں اور وہ نیک نیتی سے ان کو پیش کرتا ہو۔ہاں ایسے مسئلہ میں اختلاف نہ ہو جس کے نہ ماننے سے انسان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ایسے شخص کو خاطی کہا جائے گا نہ کہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔اس تمہید کے بعد حضور نے حضرت علی کے زمانہ کے فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔جب حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا تو مفسدوں نے بیت المال کو لوٹا اور اعلان کر دیا کہ جو مقابلہ کرے گا قتل کر دیا جائے گا۔لوگوں کو جمع نہیں ہونے دیا جاتا تھا اور مدینہ کا انہوں نے سخت محاصرہ کر رکھا تھا۔اور کسی کو باہر نہیں نکلنے دیا جاتا تھا حتی کہ حضرت علیؓ جن کی محبت کا وہ لوگ دعوئی کرتے تھے ان کو بھی روک دیا گیا اور مدینہ میں خوب لوٹ مچائی۔ادھر تو یہ حالت تھی اور ادھر انہوں نے اپنے قساوت قلبی کا یہاں تک ثبوت دیا کہ حضرت عثمان جیسے مقدس انسان کو جن کی رسول کریم ان نے بڑی تعریف کی ہے قتل کرنے کے بعد بھی نہ چھوڑا اور لاش کو تین چار دن تک دفن نہ کرنے دیا۔آخر چند صحابہ نے مل کر رات کو پوشیدہ طور پر دفن کیا۔