انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 590

انوار العلوم جلد ۴ ۵۹۰ تقدیرالی پر نادم ہو کر اپنے رب کی دہلیز پر اپنی جبیں (پیشانی) کو رکھ دیتا ہے اور ندامت کے آنسوؤں سے اس کو دھو دیتا ہے۔کیا رحمن اور رحیم خدا اس کی اس حالت کو دیکھ کر اس کے اس حال پر رحم کھائے گا یا نہیں ؟ کیا وہ اپنے پہلے فیصلہ کو جو اس شخص کے پہلے حال کے مطابق اور ضروری تھا اب نئے حال کے مطابق بدلے گا یا نہیں ؟ کیا وہ رحم سے کام لے کر اس کی سزا کے حکم کو منسوخ کرے گا یا کہہ دے گا کہ چونکہ میں اپنے فیصلہ سے ایک بندہ کو بھی اطلاع دے چکا ہوں اس لئے میں اب اس حکم کو نہیں بدلوں گا اور خواہ یہ شخص کس قدر بھی تو بہ کرے گا اس کی حالت پر رحم نہیں کروں گا۔کیا اگر وہ اپنے فیصلہ کو ظاہر نہ کرتا تو اسلامی تعلیم کے ماتحت اس فیصلہ کو بدل سکتا تھا یا نہیں؟ بلکہ وہ اپنی سنت کے مطابق اس کو بدل دیتا یا نہیں؟ پھر جب کہ وہ باوجود ایک فیصلہ کر دینے کے باوجود ملائکہ کو اس پر آگاہ کر دینے کے اپنے فیصلہ کو بدل سکتا تھا بلکہ بدل دیتا تو کیا وہ اب اس لئے رحم کرنا چھوڑ دے گا کہ اس نے اپنا فیصلہ ملائکہ کے علاوہ ایک انسان پر بھی ظاہر کر دیا ہے اور اس کے ذریعہ دوسرے انسانوں کو بھی اطلاع دے دی ہے اور کیا وہ اپنے فیصلہ کو بدل دے تو کوئی نادان کہہ سکتا ہے کہ اس نے نعوذ باللہ جھوٹ بولا ہے ؟ ایک ملازم کے قصور پر اگر کوئی آقا کے کہ میں تجھے ماروں گا۔اور وہ ملازم سخت ندامت کا اظہار کرے اور توبہ کرے اور آئندہ کے لئے اصلاح کا وعدہ کرے اور وہ آقا اسے معاف کر دے اور نہ مارے تو کیا کوئی صحیح العقل انسان کے گا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے ؟ اور وعدہ خلافی کی ہے؟ پہلی قسم کی پیشگوئیاں یعنی جن میں تقدیر عام کے نتائج سے اطلاع دی جاتی ہے اکثر مؤمنوں کے لئے ہوتی ہیں تا اللہ تعالیٰ ان کو ہوشیار اور متنبہ کر دے اور آفات ارضی سے بچالے اور ان پر اپنے رحم کو کامل کرے کیونکہ مؤمن قانون قدرت کے اثر سے بالا نہیں ہوتا۔اور بارہا لا علمی کی وجہ سے ان کی زد میں آجاتا ہے اور طبعی قوانین کو تو ڑ کر مشکل میں پھنس جاتا ہے۔تب خدا تعالی نتائج بد کے پیدا ہونے سے پہلے اسے یا کسی اور مؤمن کو اس کے لئے اصل حالت سے آگاہ کر دیتا ہے۔اور وہ خود قانون قدرت کے ہی ذریعہ سے یا دعا د صدقہ سے اس کا رفعیہ کر لیتا ہے۔اور دوسری قسم کی پیشگوئیاں جن میں تقدیر خاص کے ذریعہ سے کسی شخص کی نسبت حکم ہوتا ہے۔خاص سرکشوں اور مفسدوں کے لئے ہوتی ہیں اور اس کی یہ وجہ ہے کہ اس تقدیر کے ماتحت ملنے والی پیشگوئی ہمیشہ عذاب کی ہوتی ہے کیونکہ عذاب ہی کی پیشگوئی ہمیشہ