انوارالعلوم (جلد 4) — Page 574
۵۷۴ تقدیرانی وم جلد ۴ کر بھی ساحر ساحر کہہ کر ایک عاجل عذاب کے مستحق ہو جاتے جو خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے منافی تھا۔گو اس وقت تک جو کچھ میں بتا چکا ہوں اس سے معلوم تقدیر کا تعلق اعمال انسانی سے ہوجاتا۔ہو جاتا ہے کہ تقدیر کا وہ مفہوم نہیں ہے کہ جو عوام میں سمجھا جاتا ہے اور جو اسلام کے فلسفیوں نے سمجھا ہے۔یعنی یہ کہ جو کچھ کرتا ہے بندہ ہی کرتا ہے ؟ یا یہ کہ جو کچھ کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے بندہ کا اس میں دخل نہیں ہے۔بلکہ اس کے علاوہ ایک درمیانی راستہ ہے جو صحیح اور مطابق تعلیم اسلام ہے۔لیکن اب میں زیادہ تشریح سے اس امر کو بیان کر دیتا ہوں کہ تقدیر کا تعلق اعمال انسانی سے کیا ہے؟ تقدر شخص یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں تقدیر کئی قسم کی ہے۔تقدیر عام طبعی اور دير عام شرعی - تقدیر خاص طبعی اور تقدیر خاص شرعی۔ان میں سے اول الذکر تقدیر ہی ہے جو سب انسانوں سے تعلق رکھتی ہے۔اللہ تعالٰی نے کچھ قوانین مقرر کر دیئے ہیں جن کے ماتحت سب کارخانہ عالم چل رہا ہے۔یعنی ہر ایک چیز میں کچھ خاصیتیں پیدا کر دی ہیں وہ اپنی مفوضہ خدمت کو اپنے دائرہ میں ادا کر رہی ہیں۔مثلاً آگ میں جلانے کی خاصیت رکھی ہے۔جب آگ کسی ایسی چیز کو لگائی جائے گی جس میں جلنے کی طاقت رکھی ہوئی ہے تو وہ اسے جلا دے گی اور اس چیز کا جلنا تقدیر کے ماتحت ہو گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے یہ مقرر نہیں فرمایا کہ فلاں فلاں شخص کے گھر کو آگ لگا دے۔چیزوں کی خاصیت خدا نے پیدا کی ہے مگر ان کے استعمال کے متعلق اللہ تعالیٰ کسی کو مجبور نہیں کرتا۔چور جب چوری کرتا ہے تو یہ بات بے شک تقدیر ہے کہ جب وہ غیر کے مال کو اٹھاتا ہے تو وہ مال اٹھ جاتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے یہ بات مقرر نہیں کی کہ زید بکر کا مال اٹھا لے۔زید کو طاقت حاصل تھی کہ خواہ اس کا مال اٹھا تا خواہ نہ اٹھاتا۔یا مثلاً بارش آتی ہے تو وہ ایک عام قاعدہ کے ماتحت آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا اس کے متعلق کوئی خاص حکم نہیں ہو تا کہ فلاں جگہ اور فلاں وقت بارش ہو۔پس بارش کا آنا ایک تقدیر ہے مگر تقدیر خاص نہیں۔ایک عام قاعدہ اللہ تعالیٰ نے بنا دیا ہے۔اس قاعدہ کے ماتحت بارش آجاتی ہے اور جیسے حالات ہوتے ہیں ان کے ماتحت برس جاتی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس تقدیر عام کے علاوہ اور تقدیریں بھی ہیں۔اور ان میں اللہ تعالیٰ کے خاص احکام نازل ہوتے ہیں۔اور اس وقت جب وہ تقدیریں نازل ہوتی ہیں تو تقدیر عام کو پھیر کر ان تقدیروں کے