انوارالعلوم (جلد 4) — Page 556
ام جلد ۴ تقدیر الهی رہ جائے گا کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے اور تعجب کرے گا کہ ایک طرف تو یہ شخص اسے نیک بندہ کہتا ہے اور دوسری طرف اس پر عیب بھی لگاتا ہے تو اگر کسی کا غلط نام با معنی ہو تو اس سے بہت مغالطہ لگ جاتا ہے ہاں اگر بے معنی نام ہو تو دھوکا نہیں لگتا۔مثلا یہ کہیں کہ رلد و نے چوری کی یا ڈاکہ مارا تو کسی کو اس فقرہ پر تعجب نہیں آتا اور اگر کہا جائے رلد و خدا کا پیارا اور نیک بندہ ہے تو بھی کوئی تعجب نہیں آتا۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ فلاں خدا پرست (جو عبد اللہ کا ترجمہ ہے) نے شرک کیا تو سخت حیرانی ہوتی ہے۔پس با معنی نام جو غلط طور پر رکھے جاویں ان سے دھو کا لگ جاتا ہے مسئلہ قدر میں غلط نام ایسا ہی ان لوگوں کو ہوا ہے۔تقدیر کا لفظ تو صحیح ہے لیکن اس کے مقابلہ میں جو نام وہ رکھتے ہیں ان کے معنی بالکل الٹے ہوتے ہیں۔مثلاً بعض لوگ تقدیر کے بالتقابل انسانی فعل کا نام تدبیر رکھتے ہیں۔بعض دونوں کا نام جبر اور اختیار رکھتے ہیں حالانکہ یہ دونوں نام غلط ہیں۔اور ان الفاظ کے معنوں کا اثر اصل مسئلہ پر پڑ گیا ہے اور اس وجہ سے یہ مسئلہ غلط ہو گیا ہے۔تو پہلی غلطی انہوں نے یہ کی کہ نام غلط رکھا ہے اور صرف یہی نام غلط نہیں بلکہ ان دونوں شقوں کے جس قدر نام انہوں نے رکھے ہیں وہ سب کے سب غلط ہیں۔مثلاً (۱) تقدیر اور تدبیر (۲) جبر اور اختیار (۳) قدرت قدیمہ و قدرت حادثہ۔لیکن یہ نام بحیثیت مجموعی پوری طرح تسلی نہیں کرتے۔تقدیر تو ٹھیک ہے لیکن اس کے مقابلہ میں تدبیر کے مقابلہ میں تدبیر غلط ہے انسانی فعل کو کہنا غلط ہے۔کیونکہ تدبیر خدا بھی کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔يُدَيرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةٌ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (السجدة: 1) یعنی اللہ تعالٰی بعض خاص کاموں کی تدبیر کر کے ان کو زمین کی طرف بھیجتا ہے۔پھر وہ ایک ایسے وقت میں جس کی مقدار انسانی سالوں کے ایک ہزار سال کے برابر ہوتی ہے اس کی طرف چڑھنا شروع کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تدبیر تو اللہ تعالٰی بھی کرتا ہے مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ تدبیروہ ہے