انوارالعلوم (جلد 4) — Page 549
العلوم جلد ۴ اسلام ۵۴۹ تقدیرانی في الْقَتْلِ (بنی اسرائیل : (۳۴) اور اِنَّ قَتَلَهُمْ كَانَ خِطاً كَبِيرًا - (بنی اسرائیل : ۳۲) غرض اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ مؤمن تو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مانے میں خوشی پاتا ہے۔کبھی بھی سستی نہیں دکھاتا۔مدینہ تو کوئی محفوظ قلعہ نہیں ہے۔اگر مسلمان باہر نہ جاتے تو کافر یہاں آسکتے تھے۔اگر قلعوں کی حفاظت ہوتی اور مسلمانوں کو باہر نکل کر حملہ کرنے کا حکم ہوتا۔تب بھی ان کو یہ بات بری نہ لگتی اور شوق سے اپنے فرض کو ادا کرتے۔پس ان آیتوں میں سے کسی سے بھی یہ اس خیال کی تردید کہ خدا کچھ بھی نہیں کرتا نہیں نکلتا کہ خدا انسان کو مجبور کرا کر اس سے ہر ایک فعل کراتا ہے اور جب یہ نہیں نکلتا تو ان لوگوں کا استدلال جو یہ کہتے ہیں کہ ہر ایک فعل خدا ہی کراتا ہے بالکل باطل ہو گیا۔اور جو یہ کہتے ہیں کہ خدا کچھ بھی نہیں کرتا اور اس کا کوئی دخل نہیں ہے ان کا عقیدہ بھی قرآن کریم سے ہی غلط ثابت ہوتا ہے مثلاً اس آیت کو لے لو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِي (المجادلة: ۲۲) کہ میں نے فرض کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول اپنے مخالفین پر غالب ہوں۔اب دیکھ لو ایک نبی جس وقت دنیا میں آتا ہے اس وقت اس کی حالت دنیوی لحاظ سے بہت کمزور ہوتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ خواہ ساری دنیا بھی اس کے خلاف زور لگائے اس پر غالب نہیں آسکتی۔چنانچہ آج تک ایسا ہی ہو تا چلا آیا ہے کہ کبھی دنیا خدا تعالیٰ کے کسی رسول پر غالب نہیں آسکی اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کا دخل ہے اور ضرور ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ دنیا ر سولوں پر غالب نہیں آسکتی؟ تو یہ خیال بھی غلط ثابت ہو گیا۔اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے تقدیر کو اس طرح علم الہی اور مسئلہ تقدیر کا خلط قرار دیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے خدا ہی کر رہا ہے ہمارا اس میں کچھ دخل نہیں ان کے خیال کی بنیاد گو مسئلہ وحدت الوجود پر ہے لیکن ان کو ایک اور مسئلہ سے ٹھوکر لگی ہے اور اسی نے مسلمانوں کو زیادہ فتنہ میں مبتلاء کیا ہے۔بات یہ ہے کہ تی انہوں نے علم الہی اور تقدیر کے مسئلہ کو ایک دوسرے میں خلط کر دیا ہے حالانکہ یہ دونوں مسئلے بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں۔موٹا ثبوت اس کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک نام علیم اور ایک قدیر ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ اگر علم الہی اور تقدیر ایک ہی بات ہے تو خدا تعالیٰ کے یہ دو نام علیحدہ