انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 548

لوم جلد ۴ ۵۴۸ تقدیر الی ہوں گے کہ جو نیک بدلہ ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے کیونکہ نیکی کی تحریک اس کی طرف سے ہوتی ہے اور جو دکھ ہو وہ انسان کی طرف سے ہوتا ہے۔کیونکہ دکھ غلطی کا نتیجہ ہے اور غلطی کی تحریک اللہ تعالٰی کی طرف سے نہیں ہوتی۔چھٹی آیت کا صحیح مطلب پھر کہتے ہیں ایک اور آیت نے تو مطلب بالکل صاف کر دیا ہے اور وہ یہ ہے۔قُلْ لَّوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ (ال عمران: ۱۵۵) ان سے کہہ دے کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو تب بھی وہ لوگ جن کے متعلق قتل کا فیصلہ کیا گیا تھا اپنے قتل ہونے کی جگہوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے اول تو جیسا کہ میں پہلی آیت کے متعلق بیان کر چکا ہوں اس جگہ بھی جزاء کا ذکر ہے اعمال کا ذکر نہیں۔یہ آیت جنگ احد کے متعلق ہے۔اس جنگ میں پہلے تو منافق مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے۔مگر عین موقع پر ایک ہزار آدمیوں میں سے تین سو آدمی واپس لوٹ آئے اور اس طرح انہوں نے اپنے نزدیک یہ سمجھا کہ ہم مسلمانوں کو دھوکا دے کر جنگ میں پھنسا آئے ہیں کیونکہ دشمن کے سامنے جا کر لوٹنا مشکل ہوتا ہے اور جنگ کے بعد مسلمانوں پر تمسخر اڑانا شروع کیا کہ یونسی تم نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ای نادانو! تم یہ سمجھ رہے ہو کہ ہم ساتھ جاکر مسلمانوں کو پھنسا آئے۔ہماری مدد کے بھروسہ پر یہ لوگ جنگ کے لئے گئے تھے۔سوسنو! اگر تم محفوظ قلعوں میں بھی ہوتے یعنی مدینہ جیسا غیر محفوظ مقام تو الگ رہا اگر قلعوں کی حفاظت بھی ہوتی تب بھی وہ لوگ جن پر جنگ فرض کر دی گئی تھی کفار کے مقابلہ میں جنگ کرنے کے لئے نکلنے سے نہ ڈرتے اور ضرور باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرتے۔پس اس جگہ کتب کے معنی مقدر ہونے کے نہیں ہیں بلکہ فرض کئے جانے کے ہیں۔جیسا کہ فرمایا کہ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ (البقرة۔تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں اور القتل کے معنی قتل ہونے کے نہیں بلکہ قتل کرنے کے ہیں۔اور ان معنوں میں یہ لفظ قرآن (۱۸۴ : کریم میں متعدد جگہ آیا ہے۔جیسے کہ الْفِتْنَةٌ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرة : ٢) اور فَلَا يُسْرِفْ (۱۹۲