انوارالعلوم (جلد 4) — Page 544
م جلد ۴ ۵۴۴ تقدیرانی تیسری آیت کا صحیح مطلب پھر ایک آیت یہ پیش کرتے ہیں۔وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ اعْيُنَ لا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذَانَّ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَيْكَ كَالْاَ نْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلَّ ، أولئِكَ هُمُ الْغَفِلُونَ (الاعراف: ۱۸۰) فرمایا۔ہم نے پیدا کر چھوڑے جہنم کے لئے جنوں اور انسانوں میں سے بہت لوگ اور ان کی شناخت کی علامت یہ ہے کہ ان کے دل ہیں مگر سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں مگر سنتے نہیں۔وہ جانوروں کی طرح ہیں۔بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ اور غافل۔اس آیت کو لے کر کہتے ہیں کہ دیکھو خدا کہتا ہے کہ میں نے جنم کے لئے بہت سے جن وانس پیدا کئے ہیں۔پس جب خدا نے بہت سے لوگوں کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے۔تو پھر کون ہے جو ان لوگوں کو جنہیں جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے برے کام کرنے سے روک سکے۔ضرور ہے کہ وہ ایسے اعمال کریں جو انہیں دوزخ میں لے جائیں۔لیکن اس آیت کے بھی جو معنی کئے جاتے ہیں وہ غلط ہیں۔عربی زبان میں لام کا حرف کبھی سبب بتانے کے لئے آتا ہے اور کبھی نتیجہ بتانے کے لئے۔جسے اصطلاح میں " لاَمُ الْعَاقِبَةِ " کہتے ہیں۔اس جگہ لِجَهَنَّمَ کا جو لام ہے وہ اسی غرض سے ہے اور اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم نے جن وانس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ ان کو جہنم میں داخل کریں کیونکہ یہ معنی دوسری آیات کے خلاف ہیں۔جیسا کہ فرمایا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریت : ۵۷) میں نے جن وانس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔اور عبد کی نسبت اللہ تعالی فرماتا ہے۔فَادْخُلِي جَنَّتِي - (الفجر : ۳۱) جو عبد ہوتا ہے اس کا مقام جنت ہے۔پس ان آیات کی موجودگی میں وَلَقَدْ ذَرَانَا لِجَهَنَّمَ کے یہ معنی ہو ہی نہیں سکتے کہ بہت سے لوگوں کو جنم کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔انسان کو تو صرف خدا کا عبد بننے اور جنت کا مستحق ہونے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اور جب یہ معنی درست نہیں تو پھر اور معنی کرنے پڑیں گے اور وہ یہی ہیں کہ یہاں لام " لامُ الْعَاقِبَةِ " ہے اور اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا مگر بجائے جنتی بننے کے دوزخ کے مستحق ہو گئے۔چنانچہ لام ان معنوں میں عربی