انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 28

رالعلوم جلد ۴ ۲۸ جماعت قادیان کو نصائح ہے۔دیکھو ایک وقت حضرت ابو بکر و حضرت عمر میں جھگڑا ہو گیا۔بعض آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باتیں کرتے کرتے ہاتھ کو بھی حرکت دے لیتے ہیں اس طرح نادانستہ طور پر حضرت ابو بکر کا تہبند پھٹ گیا۔بایں ہمہ حضرت ابو بکر نے باوجود بزرگ ہونے کے حضرت عمر سے معافی چاہی۔وہ اس وقت جوش میں تھے۔لہذا حضرت ابو بکر رسول کریم کے حضور میں حاضر ہوئے اور آکر یہ شکایت نہیں کی کہ عمر نے مجھ سے لڑائی کی یا مجھے دکھ دیا بلکہ یہ کہا کہ عمر مجھے معاف نہیں کرتا۔حضرت عمرہ بھی آگئے اور معذرت کی۔(بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب قول النبي لو كنت متخذا خليلاً) دیکھو یہ تھے خیر القرون کے مسلمان۔تمہیں بھی ایسا ہی بنا چاہئے کہ اگر کبھی بتقاضائے بشریت جھگڑا ہو جائے تو فورا صلح کرلو اور دل میں کینہ نہ بٹھای چھوڑو۔ابن تیمیہ کا ذکر ہے کہ کسی نے ان کو آکر مبارکباد دی۔آپ کا فلاں جانی دشمن جو آپ کو بہت گالیاں دیا کرتا تھا مر گیا۔آپ اس پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اس کا اور میرا اختلاف تو زندگی کا تھا۔فورا اس کے گھر حاضر ہوئے تجہیز و تکفین کے بعد اس کے گھر والوں سے کہا کہ جو بھی ضرورت ہو میں اس کا کفیل ہوں اور ہر کام اطلاع ہونے پر کر دیا کروں گا۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ایک دوسرے سے ہمدردی کرو۔کسی بھائی خلاصة الکلام کی عداوت دل میں نہ بٹھالو بلکہ تم میں ایسی محبت اور اخوت ہو جو باہر کے لوگوں کے لئے نمونہ ہو۔وہ اگر ایک شہر یا گاؤں کے ہو کر صرف محلوں یا دروازوں یا رشتوں کے متفرق ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی مؤاخات یا مواسات میں سرگرم نہیں تو انہیں نمونہ سے یہ سبق پڑھاؤ کہ دیکھو دور دراز کے مختلف ملکوں کے مختلف المذاق باشندے کس طرح مسیح موعود کی قوت قدسیہ سے ایک دوسرے کی ہمدردی اور غمگساری کرتے ہیں اور جب ان کا یہ حال ہے تو ہم ایک شہر یا ایک قبیلہ کے ہو کر کیوں ایک دوسرے سے بیگانہ رہیں۔میرے حلق میں بھی تکلیف تھی اور میں شاید زیادہ بول گیا ہوں۔اس لئے ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالٰی آپ لوگوں کو خیریت سے رکھے اور اپنے اوقات دین کی خدمت میں صرف کرنے کی باہم محبت، اخوت، امن چین سے رہنے کی توفیق الفضل ۸ - ستمبر ۱۹۱۷ء) ے۔آمین۔