انوارالعلوم (جلد 4) — Page 27
علوم جلد ۴ ۲۷ جماعت قادیان کو نصائح شکایت کا موقع پیدا ہونے دیا اور خود یہ کام سرانجام نہ دیا۔کم فرصتی کا عذر فضول ہے کہ کاموں کی کثرت اور چیز ہے اور کاموں کا اہم ہونا اور بات ہے۔دیکھو ایک شخص سے کہا جائے کہ فلاں مکان میں چار پائیاں بچھا دینا، یہ سودا بازار سے لانا کپڑے دھوپ میں رکھنا وغیرہ۔اور دوسرے سے کہا جائے کہ جنگل سے شیر مار لانا تو پہلا شخص نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اتنے کام ہیں اور دوسرے کا صرف ایک کام کیونکہ آخری کام کے مقابلہ میں وہ پہلے بہت سے کام کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔پھر کاموں کی نوعیت میں بھی فرق ہوتا حقیقت حال سے بے خبر اعتراض کرتے ہیں ہے۔جنگ کا تعلق اس زمانہ میں جسمانی حالت سے تھا اس لئے اس کے واسطے جفاکشی محنت اور خشن پوشی کی ضرورت تھی۔اور چاہئے تھا کہ غذا بھی سادہ ہو۔بلکہ اکثر بھوکے رہنے کی عادت ہو۔مگر تصنیف کا تعلق دماغ سے ہے۔اس کے لئے نرم لباس - نرم غذا چاہئے اور اپنے آپ کو حتی الوسع تنہائی میں رکھنا کیونکہ تصنیف کا اثر اعصاب پر پڑتا ہے۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے حضرت عیسی پر اعتراض کیا کہ وہ روزے کم رکھتا ہے۔اور کھاؤ پیو" ہے۔نادان یہ نہیں سمجھتے کہ حضرت موسیٰ کا زمانہ نہ تھا۔وہ تو ایک علمی زمانہ تھا۔ان کو مخالفین کے مقابل پر تقریریں کرنی پڑتی تھیں اور یہود کی کتب کا مطالعہ - موقع موقع کی بات ہوتی ہے روزہ رکھنا بڑے ثواب کا کام ہے۔مگر حضرت رسول کریم نے ایک دن فرمایا کہ آج روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے والوں سے اجر میں بڑھ گئے (ابو داؤد کتاب الصيام باب الصوم في السفر) کیونکہ بے روزوں نے خیمے وغیرہ لگائے۔کھانے کا بندوبست کیا اسباب رکھوایا اور روزہ دار بے چارے بے دم ہو کر سفر سے آتے ہی لیٹ گئے۔غرض حالات کے بدلنے کے ساتھ تم اپنی حالتوں کو بدلو۔اپنے فرض کو پہچانو۔یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ جب نماز پڑھنے کے لئے نکلے تو محلہ والے قرب و جوار کے حاجتمند احمدی گھروں کی خبر خیریت دریافت کرتے گئے۔سودے کے ساتھ ان کی خبر بھی لیتے گئے۔اکھڑ پن چھوڑ دو اور جزوی اختلاف سے مؤاخات و مواسات میں فرق نہ آئے آپس میں جو اختلاف ہو جاتے ہیں ان کو خواہ مخواہ طوالت نہ دو۔لڑائی تو بعض وقت بھائیوں میں ہو ہی جاتی