انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 520

۵۲۰ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء اور حرص میں پڑ کر نہ صرف اس کی خوبی کو چھپایا۔بلکہ دشمنان اسلام کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ اسلام کی تعلیم ہر زمانہ کے لئے قابل عمل نہیں اور دنیا کی ترقی میں روک ہے۔دوسرے لوگوں سے تو جو غلطی احمدیوں کو شودی لین دین سے پر ہیز کرنا چاہئے ہوئی سو ہوئی میں احمد یہ جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس اعتراض کے دور کرنے کے لئے بھی کمر بستہ ہو جاوے اور اسلام کا بے عیب ہونا ثابت کرے۔اور اس طرح کامل عباد میں اپنے آپ کو شامل کر دے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں سود کو مٹاؤں گا اور صدقات کو بڑھاؤں گا اور یہ اسلام ہی کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے۔گویا یہ پیشگوئی ہے کہ اس جنگ عظیم کے بعد جو سود خور قوموں میں ہوگی اللہ تعالٰی ایسے لوگوں کو ترقی دے گا جو سود سے پر ہیز کرتے ہوں گے اور صدقات پر زور دیتے ہوں گے۔یعنی بجائے غریب سے کچھ لینے کے جیسا کہ سود خور کرتا ہے وہ غریبوں کی مدد کرے گا پس تمام احمدیوں کو چاہئے کہ سود کے لینے اور دینے سے پر ہیز کریں۔کیونکہ یہ خدا تعالیٰ سے لڑائی ہے۔اور میں نہیں جانتا کون خدا سے لڑ سکتا ہے۔اور پھر یہ ایسا حکم ہے جس کی وجہ سے اسلام پر دشمن حملہ کرتا ہے۔اور اس میں کمزوری دکھائی اسلام پر حملہ کروانا ہے۔نعوذ باللہ من ذالك - عبد بننے کے لئے جن دو باتوں کی ضرورت تھی ان میں سے ایک کو میں بیان کر چکا ہوں۔یعنی ان فرائض کو پورا کرنا جو انسان کے ذمہ لگائے گئے ہوں۔اب میں دو سرے حصہ کو لیتا ہوں۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں عبد بننے کے لئے عبد بننے کے لئے دوسری ضروری باتیں دوسری ضروری بات یہ ہے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرنے کے ساتھ یہ بھی دیکھتا رہے کہ دوسرے عبد بھی اپنا کام دیانتداری سے ادا کر رہے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ سچی ہمدردی اور خیر خواہی یہی ہوتی ہے کہ انسان نہ خود نقصان کرے اور نہ نقصان ہونے دے۔کبھی کوئی نو کر وفادار نہیں کہلا سکتا جب تک کہ وہ اپنے آقا کے مال کے ضائع ہونے کا ہر حالت میں خیال نہیں رکھتا خواہ وہ اس کے سپرد ہو خواہ غیر کے۔اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تأمرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (ال عمران: 11) کہ اے مسلمانو! تم اچھے لوگ ہو