انوارالعلوم (جلد 4) — Page 506
دم جلد ۵۰۶ خطاب جلسہ سالانہ ۷ ۲- دسمبر ۱۹۱۹ء و مواضع الصلوة باب استحباب صلوة النافلة فى بيته و جوازها في المسجد تو بعض عبادتیں ایسی ہیں جو دونوں طرح یعنی ظاہری اور مخفی ادا کرنے کے لئے رکھی گئی ہیں۔اور بعض صرف مخفی ہیں۔مخفی امور میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان عبد بننے کے لئے عقائد کی اصلاح اپنے عقائد درست رکھے۔جس طرح اسلام کے بتائے ہوئے عقائد کو ماننے کا حق ہے اسی طرح مانے۔ورنہ اس وقت تک کوئی انسان عبد نہیں کہلا سکتا جب تک اس کے دل میں خدا تعالیٰ کے متعلق وہی خیالات نہ ہوں جو خدا تعالیٰ نے رکھنے کا حکم دیا ہے۔تو عبد بننے کے لئے پہلا فرض یہ ہے کہ انسان مخفی فرائض کو ادا کرے یعنی اپنے عقائد کو درست کرے۔پھر یہ فرض ہے کہ ایسی عبادات جن کو مخفی طور پر بجالانے کا حکم ہے ان کو بجا لائے۔مثلاً مخفی صدقہ دے مخفی طور پر نمازیں پڑھے۔پھر زبان کے لحاظ سے مخفی اعمال یہ ہیں کہ قرآن کریم پڑھے خدا تعالیٰ کی تسبیح کرے۔پس عبد بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اعتقادات درست ہوں۔انسان سمجھے کہ ستار غفار، رحیم، کریم ، ورود مهیمن، قادر ، خالق مالک رازق خدا ہے۔اور خدا تعالی کی تمام صفات کو اپنے دل پر نقش کرلے۔اور ان کے متعلق کوئی شبہ نہ کرے۔یہ مخفی فرض ہے اور یسی جڑ ہے تمام فرائض کی۔اور یہ نہایت ضروری اور اہم بات ہے بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سمجھتے ہی نہیں کہ اسلام کیا چیز ہے۔نمازیں پڑھتے روزے رکھتے ، حج کرتے ہیں۔مگر یہ نہیں جانتے کہ خدا تعالی کے متعلق انہیں کیا جانا چاہئے۔کیا آقا کے متعلق جو کچھ نہ جانے وہ نوکر کہلا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔پس عبد بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے آقا کو جانے کہ وہ کیا ہے۔کیونکہ اگر وہ اپنے آقا کی صفات کو نہیں جانتا۔تو ممکن ہے کہ اسے غلطی لگ جائے اس کے لئے یہی طریق ہے کہ اسلام نے جو باتیں خدا تعالیٰ کے متعلق بتائی ہیں ان کا اپنے دل پر نقش کرے۔یہ پہلا فرض ہے۔اور دوسرا فرض یہ ہے کہ زبان سے مخفی طور پر خدا تعالی کی صفات بیان کرے۔اور تیسرا یہ کہ مخفی طور پر اعمال کرے۔پھر اس کے ساتھ دوسری شق کو بھی نہ چھوڑے یعنی ظاہری اعمال بھی ضروری ہیں ظاہری اعمال کو بھی ترک نہ کرے۔ان ظاہری اعمال