انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 468

MYA آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے طریق پر پڑھائیں گے تو میں پڑھانے دوں گا ورنہ نہیں۔حالانکہ یہ سخت ترین غلطی ہوگی کیونکہ جو جس فن کا آدمی ہو تا ہے وہی اس کے متعلق خوب سمجھ سکتا ہے دوسرا نہیں۔پس ریشنلزم والوں اور اہل مذاہب دونوں نے غلطی کی اور دونوں افراط و تفریط میں جا پڑے۔ریشنلزم والوں کا یہ کہنا کہ جو ہماری عقل میں آئے گا مانیں گے غلطی ہے اور اہل مذاہب کا محض یہ کہنا کہ چونکہ ہمارا مذ ہب تعلیم دیتا ہے اس لئے اسے ماننا چاہئے غلطی ہے۔اسلام نے وسطی طریق اختیار کیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ پہلے تم خوب غور کرو اور دیکھو کہ سچاند ہب کونسا ہے اور کس میں سچائی کے دلائل اور نشانات اور برکات ہیں جب تم اپنی عقل کے زور سے یہ معلوم کرلو کہ فلاں مذہب اس وقت خدا کی طرف سے ہے۔پھر اس کے احکام کے آگے چون و چرا نہ کردان کو بجا لاؤ۔جس طرح ایک ڈاکٹر کے نسخہ پر بغیر چون و چرا کے عمل کرنا عین عقلمندی ہے اسی طرح جب یہ کھل جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے اس پر بھی بے چون و چرا عمل کرنا چاہئے یہ ایک درمیانی رستہ ہے۔اس کے مطابق تمام باتیں واضح ہو جاتی ہیں اور کھل جاتا ہے کہ کونسا مذ ہب حق ہے۔(الفضل 11 دسمبر ۱۹۱۹ء)