انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 19

19 جماعت قادیان کو نصائح بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ جماعت قادیان کو نصائح فرموده ۱۲۹اگست ۱۹۱۷ء بعد نماز مغرب بر موقع روانگی شمله) اسلام میں کچھ قواعد مسلمانوں کی ترقی اور فوائد کے لئے ہیں۔اسلام میں قوانین اتحاد مسلمان جب تک ان پر چلے انہوں نے بہت فائدہ اٹھایا۔عربوں کی زندگی کا نقشہ اگر کسی نے دیکھنا ہو تو وہ ٹیری دانسوں (خانہ بدوش) کو دیکھ لے سوائے چند شہروں (مکہ - طائف) کے رہنے والوں کے سب تمدنی اقوام کے مقابلے میں گرے ہوئے تھے ایسے لوگوں نے ان قواعد پر چل کر جو رسول کریم نے وحی متلو و غیر متلو اور فطرت صحیحہ اور عقل خدا داد سے بتائے ایک دنیا کی حکومت حاصل کرلی۔یورپین مؤرخین از راه تعصب اسلام میں علوم کی ترقی نہیں مانتے۔مگر واقعات سے مجبور ہو کر ان کو بھی ماننا پڑا ہے کہ اگر اسلام نہ ہو تا تو تمام علوم سابقہ مٹ جاتے گویا محافظ علوم مان لیا ہے اور وہ اسلام کے اس اثر کے قائل ہیں۔اسلام بانی علوم بھی ہے۔مگر یہ بھی بڑی بات ہے جو انہوں نے مان لی کیونکہ کسی چیز کو مٹنے سے بچانا یا مٹی ہوئی کو واپس لانا بھی اسی کا کام ہے جو موجد ہونے کی شان رکھتا ہو۔دیکھو رسول اللہ نے مسیح موعود کو اپنے مشابہ بلکہ برابر کہا بلکہ ان میں ایسی صفات بیان کیں جن سے صحابہ سمجھے کہ وہ اپنا ہی ذکر فرما رہے ہیں۔یہ کیوں؟ اسلام مٹ چکا تھا اس مقدس ہستی نے اسے قائم کیا۔یہ کام بھی گویا ایسا ہی تھا جیسے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی بنا ڈالی۔غرض مسلمانوں نے جتنی بھی ترقی کی وہ اسلام کے احکام پر چل کر۔چنانچہ صحابہ کا وہ گروہ جو حبشہ میں ہجرت کر کے چلا گیا تھا جب مکہ والوں نے اس کی مخالفت کے لئے اپنا وفد وہاں بھیجا تو نجاشی کے اس سوال پر کہ تم میں کیوں اختلاف ہے۔جعفر طیار نے اپنی حالت سابقہ و موجودہ کا خوب نقشہ کھینچا کہ ہم کیا تھے کیا اخلاق رکھتے تھے اور اسلام نے ہمیں اب کس اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا