انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 419

العلوم جلد ۴۱۹ خطاب جلسہ سالانہ کے امارچ ۱۹۱۹ء میں ہتھیار کی طرح ہیں۔اور تلوار خواہ اچھی ہو یا بری۔جب اچھے چلانے والے کے ہاتھ میں آجائے تو اچھا ہی کام کرتی ہے۔وہ لوگ جنہوں نے صرف مجھے دیکھا انہوں نے غلطی کی۔انہیں چاہئے تھا کہ یہ دیکھتے کہ میں کس کے ہاتھ میں ہوں۔غرض ان لوگوں سے فیصلہ مشکل نہیں۔وہ آئیں اور انہیں معیاروں سے فیصلہ کر لیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مخالفین سے فیصلہ کرنا چاہا۔یہی ہماری اور ان کی صلح ہے اور اسی طرح امن قائم ہو سکتا ہے۔اب میں چند اور باتیں مختصر طور پر آپ لوگوں کی توجہ کے لئے بیان کرتا ہوں۔اول یہ ہے کہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے بعض نئے راستے کھولے ہیں۔پانچ سال جو جنگ رہی ہے اس کی وجہ سے تبلیغ کے راستے بند تھے۔لیکن اس کے خاتمہ کے ساتھ ہی دنیا میں عظیم الشان تغیر واقع ہو گیا ہے۔اور لوگوں کی توجہ دنیا سے ہٹ کر خدا کی طرف ہو رہی ہے۔اس کی وقت لوگوں کے دل گرم ہیں۔اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ گرم لوہے پر چوٹ اچھا نشان پیدا کرتی ہے۔آج سے کچھ سال بعد مائیں اپنے مرنے والے بچوں کو بھول جائینگی۔بیویاں اپنے علیحدہ ہو جانے والے خاوندوں کو فراموش کر دیں گی۔بیٹے اپنے مرنے والے باپوں اور باپ اپنے مرنے والے بیٹوں کو یاد سے اتار دیں گے۔لیکن اس وقت سب کا غم تازہ ہے اور سب کے دل چھلے ہوئے ہیں۔اس وقت عورتوں ، بچوں اور ماؤں، باپوں کے آنسو نہیں تھے۔اور ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں گھر تباہ و برباد ہو گئے ہیں۔جس سے دنیا کے دل ہل گئے ہیں اور وہ خدا کی باتیں سننے کے لئے پہلے کی نسبت بہت زیادہ تیار اور آمادہ ہے۔اب وہ لوگ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے خون کی ندیاں بہتی دیکھی ہیں ان کے دل بہت نرم ہو چکے ہیں۔مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے گھر بیٹھے ہوئے کہدیں کہ جنگ کے متعلق مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو کہدیں لیکن فرانس کی جنگ سے واپس آیا ہوا یہ نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ و سب نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہے۔چنانچہ کئی شخص جو جنگ سے واپس آئے انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم ، جنگ میں ہم نے وہی نقشہ دیکھا جو حضرت مرزا صاحب نے الفاظ میں کھینچا ہے۔جنگ کے ایام میں فرانس سے ایک دوست نے لکھا تھا کہ اس وقت ہم جس مقام پر ہیں اس کی ایک طرف تو خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور دوسری طرف چنار کے درخت ہیں جن کا رنگ بھی خون کی طرح ہی ہے۔اس خط کے ساتھ انہوں نے چنار کا ایک پتا بھی بھیجا تھا جس کا 83۔