انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 417

العلوم جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ کے امارچ ۱۹۱۹ء صدمہ ہوا۔اور رات کو کچھ شعر کے۔جن میں سے دو تین یہ ہیں۔میرے دل پر رنج و غم کا بار ہے ہاں خبر لیجئے کہ حالت زار ہے۔میرے دشمن کیوں ہوئے جاتے ہیں لوگ مجھ سے پہنچا ان کو کیا آزار ہے میری غمخواری فکر سے ہیں بے خبر جو ہے میرے در پئے آزار ہے دیں میں گھل گیا ہے میرا دل مرا اک کوه آتش بار ہے جن کے سر پر کھینچ رہی تلوار ہے سے وہ کیا ڈراتے ہیں مجھے خنجر تو اس وقت مجھ سے جو کچھ کہا جاتا تھا اس کو میں مخفی رکھتا تھا۔نہ کبھی میں نے اس سے اپنے کسی بھائی کو اور نہ کسی اور کو آگاہ کیا۔لیکن اب ایسا نہیں ہو سکتا اب بات میری ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اثر اس منصب تک پہنچتا ہے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اس لئے میں خاموش نہیں رہ سکتا اور علی الاعلان اپنے مقابلہ پر بلاتا ہوں۔میرے متعلق کہا جاتا ہے کہ میں نے خلافت دھوکا اور فریب سے لے لی۔حالانکہ خدا تعالیٰ شاہد ہے مجھے اس منصب کے پانے کا خیال بھی نہ تھا۔حضرت خلیفہ اول کی بیماری کے ایام میں جب میں نے دیکھا کہ آپ کی حالت نازک ہے اور میری نسبت بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خلافت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو میں نے انہیں کہا کہ تم جس کو خلیفہ منتخب کرو میں اس کی بیعت کرلوں گا اور جو میرے ساتھ ہیں وہ بھی اس کی بیعت کر لیں گے۔لیکن کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔پھر جب حضرت مولوی صاحب کے فوت ہو جانے پر نواب صاحب کی کوٹھی میں مشورہ کے لئے جمع ہوئے۔تو اس وقت بھی میں نے یہی کہا۔لیکن اس وقت بھی انہوں نے نہ مانا۔پھر میں تو ان دنوں یہاں سے کہیں باہر چلا جانا چاہتا تھا۔اور میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ میں چلا جاؤں لیکن دوسرے دن حضرت مولوی صاحب کی وفات ہو گئی اس لئے نہ جا سکا۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ میں نے خلافت کے لئے کوئی منصوبہ کیا غلط کہتے ہیں۔میں تو ہر چند اس بوجھ کو ہٹانا چاہتا تھا مگر خدا تعالیٰ کی مصلحت تھی کہ چونکہ خدا تعالیٰ شرک کو مٹانا چاہتا تھا۔اس لئے اس نے کمزور انسان کو اس کام کے لئے چنا۔پس اس نے مجھے اس منصب پر اس لئے کھڑا نہیں کیا کہ میں سب سے نیک، بڑا عارف اور خدا کا زیادہ مقرب تھا۔بلکہ اس لئے چنا کہ دنیا مجھے حقیر، جاہل ، عقل سے کورا فسادی ، فریبی سمجھتی تھی۔خدا نے چاہا کہ وہ لوگ جو مجھے ایسا ہیں ان کو بتائے کہ یہ سلسلہ ان لوگوں پر نہیں کھڑا ہوا۔جو اپنے آپ کو بڑے بڑے