انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 12

انوار العلوم جلد می ۴ اطاعت از بان شناسی لوگ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ (ال عمران : (11) پر عمل کرتے تو آج لاکھوں انگریز مسلمان ہو گئے ہوتے اور مسلمانوں کی تعداد کروڑوں کروڑ ہو جاتی اور اس طرح وہ حکومت جسے غیر حکومت کہتے ہیں غیر نہ رہتی بلکہ اپنی ہو جاتی۔اب بھی اگر مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ غیر مذہب کی حکومت کی اطاعت نہیں کرنی چاہئیے۔حالانکہ یہ غلط ہے تو ہم کہتے ہیں اسے غیر نہ رہنے دو۔اسلام سکھا کر اپنے بنالو۔پس اس وقت تمہارے سامنے دو طریق ہیں۔جن میں سے ایک تو قرآن کریم کے خلاف ہے اور دوسرا مطابق کہ انگریزوں کو تبلیغ اسلام کرو اور انہیں اسلام میں لے آؤ۔اس طرح أولى الأمْرِ مِنْكُمْ کے جو معنی تم کرتے ہو وہ بھی پورے ہو جائیں گے۔مگر افسوس کہ مسلمان یہ طریق اختیار کرنا تو پسند نہیں کرتے اور وہ اختیار کر رہے ہیں جو قرآن کریم کے خلاف ہے اور جس کا نتیجہ کبھی کامیابی نہیں ہو سکتا اور نہ اس میں کبھی آرام اور سکھ نصیب ہو سکتا ہے۔مسلمان اگر قرآن کریم پر غور کرتے تو اس رستہ پر نہ چلتے کیونکہ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کی ترقی حکومتوں کا مقابلہ کرنے سے نہیں ہوگی بلکہ اسی طرح ہوگی جس طرح حضرت مسیح ناصری کے وقت ہوئی تھی۔سورۃ بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل پر دو تباہیاں آنے کا ذکر ہے اور دوسری تباہی کے بعد جو لوگ بچے اور جنہوں نے ترقی کی ہے وہ عیسائی تھے۔ان کی ترقی اس طرح ہوئی کہ غیر مذہب کی حکومت جس کے وہ ماتحت تھے عیسائی ہو گئی۔آج بھی مسلمانوں کی ترقی اسی طریق سے ہو سکتی ہے اور ہوگی نہ کہ سیاسی منصوبے باندھنے اور حکومت کے خلاف کوششیں کرنے سے۔دیکھو یہود نے اس وقت حکومت کے خلاف منصوبے باندھنے اور فتنے پیدا کرنے شروع کئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ٹائٹس نے ان کو تباہ و برباد کر کے ان کے معبد میں خنزیر ذبح کیا۔مگر عیسائیوں کی کوشش اور امن پسندی کا یہ نتیجہ ہوا کہ حکومت ہی عیسائی ہو گئی۔آج بھی اگر مسلمان غور کرتے اور دیکھتے کہ ایک انسان نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔کچھ لوگوں نے اس کو مان لیا اور بہتوں نے انکار کر دیا۔ماننے والوں نے امن کے ساتھ تبلیغی کوششیں شروع کردیں۔اور نہ مانے والوں نے فتنہ و فساد پھیلانا اور حکومت کے خلاف کوششیں کرنا شروع کر دیں۔جس کا نتیجہ ان کے لئے تو تباہی و بربادی نکلا اور ماننے والوں کو یہاں تک ترقی ہوئی کہ غیر مذہب کی حکومت نے ان کا مذہب اختیار کر لیا۔