انوارالعلوم (جلد 4) — Page 356
انوار العلوم جلدم ۳۵۶ عرفان المی ہوں کہ عرفانِ الہی کے معنی ہیں اس ہستی کا پتہ لگانا جس کی صفات کو قرآن کریم میں پڑھا ہے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ پتہ لگانے کے کیا ذرائع ہیں۔اس کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ اگر پتہ لگانے کے یہ معنی ہیں کہ انسان خدا کو دوسری چیزوں کی طرح اپنے سامنے پالے اور اسے اپنے مادی اعضاء سے چھولے۔تو اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان میں بھی وہ باتیں پائی جائیں جو خدا تعالی میں ہیں۔کیونکہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے مادی اعضاء جن چیزوں کو چھوتے ہیں وہ مادی ہی ہوتی ہیں۔اور جتنا جتنا مادہ اشیاء میں کم ہوتا جاتا ہے وہ اتنی ہی کم محسوس ہوتی ہیں۔وجہ یہ کہ جب تک دو چیزوں میں مشارکت نہ ہو اس وقت تک ان کا آپس میں تعلق نہیں پیدا ہو سکتا۔مثلاً بھینس اور علوم میں کسی قسم کی مشارکت نہیں۔اب اس کے سامنے فلسفہ بیان کیا جائے تو کبھی نہیں سمجھ سکے گی۔اسی طرح طوطے میں گو زبان کی مشارکت ہے لیکن عقل کی مشارکت نہیں رکھتا۔اس لئے آواز کی نقل تو اتار لیتا ہے لیکن کوئی بات سمجھ نہیں سکتا۔اس سے معلوم ہوا کہ عرفان الہی کے لئے مشارکت اور خدا سے مشارکت پیدا کرو مناسبت کا ہونا ضروری ہے۔اور خدا کا عرفان اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب کہ خدا سے مشارکت پیدا ہو جائے۔اور خدا کی صفات انسان کے اندر آجا ئیں۔یہ تو میں نہیں کہتا۔کہ جب تک ہماری ہستی خدا کی طرح نہ ہو جائے اس وقت تک عرفان الہی حاصل نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ کہتا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ کہ خدا کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو۔رسول کریم اے نے یہ اسی لئے فرمایا ہے کہ تم میں صفات الہیہ اپنے اندر پیدا کرد اور خدا میں مشارکت پیدا ہو جائے۔اور جب مشارکت پیدا ہو جائیگی تو تم خدا کو دیکھ لو گے۔یہ نہیں فرمایا کہ تم خدا جیسی ذات بنالو۔بلکہ یہی فرمایا ہے کہ اپنے اخلاق خدا کے اخلاق کی طرح بناؤ۔وجہ یہ کہ خدا تعالی کی ذات کو کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا۔اور جب سمجھ نہیں سکتا تو اس کی مماثلث بھی نہیں اختیار کر سکتا۔پس اللہ تعالٰی کی ذات کو دوسری چیزوں کی طرح انسان نہیں دیکھ سکتا۔ہاں اس کی صفات جنہیں وہ معلوم کر سکتا ہے اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے۔اس طریق سے خدا کو دیکھ بھی سکتا ہے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اور اللہ تعالی کے اخلاق سے مراد اس کی صفات ہیں۔