انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 335

العلوم جلد ۳۳۵ اسلام میں اختلافات کا آغاز ا۔اس مضمون پر برائے اشاعت نظر ثانی کرتے وقت میں نے حاشیہ پر بعض ضروری تاریخی حوالجات دے دیئے ہیں اور مطالعہ کنندہ کتاب کو زیادہ مشقت سے بچانے کے لئے صرف تاریخ طبری کے حوالوں پر اکتفاء کی ہے۔الا ماشاء اللہ۔منہ _ در حقیقت عشرہ مبشرہ ایک محاورہ ہو گیا ہے ورنہ رسول کریم ﷺ نے اس سے بہت زیادہ صحابہ کی نسبت جنت کی بشارت دی ہے۔عشرہ مبشرہ سے دراصل وہ دس مہاجر مراد ہیں جو رسول کریم ﷺ کی مجلس شوری کے رکن تھے اور جن پر آپ کو خاص کا اعتماد تھا۔ک اسلامی تاریخ کے بعد کے واقعات سے یہ بات خوب اچھی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ صحابہ کار ٹل کیسا مفید و با برکت تھا کیونکہ کچھ عرصہ کے لئے صحابہ کے دخل کو ہٹا کر خدا تعالٰی نے بتا دیا کہ ان کے علیحدہ ہونے سے کیسے برے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اسلام کی تضحیک خود مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں اس عرصہ میں اس طرح ہوئی کہ دل ان حالات کو پڑھ کر خوف کھاتے ہیں اور جسموں میں لرزہ آتا ہے۔(مرزا محمود احمد) ۴۔اس سے آپ کی دو غرضیں تھیں۔ایک تو یہ کہ مدینہ میں معلمین کی ایک جماعت موجود رہتی تھی اور دوسرے آپ کا خیال تھا کہ صحابہ کو چونکہ ان کے سابق با ایمان ہونے اور رسول کریم ﷺ کے زمانہ کی خدمات کی وجہ سے بیت المال سے خاص حصے ملتے ہیں اگر یہ لوگ جنگوں میں شامل ہوئے تو ان کو اور حصے میں نے اور دوسرے لوگوں کو ناگوار ہو گا کہ سب ماں انہی کو مل جاتا ہے۔یعنی بحیثیت سابق ہونے کے بھی حصہ لیں اور اب بھی جہاد کر کے حصہ لیں تو دوسرے لوگ محروم رہ جائیں گے۔- لَا تَأْكُلُوا اَبَدًا جِيرَانَكُمْ سَرَفا امل التَّعَارَةِ فِي مُلْكِ ابْنِ عَفَّانَ ان ابن عَفَّانَ الَّذِي جَرَّبْتُم فَطِمُ اللمُوسِ بِحُكْمِ الْفُرْقَانِ ما زال يَعْمَلُ بِالْكِتَبِ مُهَيْمِنًا في كُلِّ عُنْقِ مِنْهُمْ وَ بَنَانِ۔جیسا کہ آگے ثابت کیا جاوے گا۔یہ اس کا جھوٹ تھا کہ مدینہ کے لوگ اس فتنہ سے محفوظ تھے۔بوقت نظر ثانی۔یہ پیشگوئی فتح مکہ کی ہے جسے بگاڑ کر اس شخص نے رجعت کا عقیدہ بنالیا۔چونکہ مکہ کی طرف لوگ بہ نیت حج اور حصول ثواب بار بار جاتے ہیں اس لئے اس کا نام بھی معاد ہے یعنی وہ جگہ جس کی طرف لوگ بار بار لوٹتے ہیں۔جہاں جلاوطن کر کے یہ لوگ بھیجے گئے تھے وہاں کے لوگوں کو خراب کرنے کا ان کو موقع نہ تھا کیونکہ وہاں خاص نگرانی اور نظر بندی کی حالت میں ان کو رکھا جا تا تھا۔حضرت معاویہ کے کلام اور ان لوگوں کے جواب سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عثمان یا ان کے مقرر کردہ حکام سے ان لوگوں کو مخالفت نہ تھی بلکہ قریش سے ہی یا دوسرے لفظوں میں ایمان میں سابق لوگوں سے ہی ان کو حسد تھا۔اگر حضرت عثمان کی جگہ کوئی اور صحابی خلیفہ ہوتا۔اور ان کے مقرر کردہ والیوں کی جگہ کوئی اور والی ہوتے تو ان سے بھی یہ لوگ اسی طرح حسد کرتے کیونکہ ان کا مدعا صرف حصول جاہ تھا۔طبری کی روایت کے مطابق شام میں حضرت عثمان کی مدد کے لئے لوگوں میں جوش دلانے والے صحابہ میں حضرت ابودرداء انصاری بھی شامل تھے۔مگر دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت عثمان کی شہادت سے پہلے فوت ہو چکے تھے جیسا کہ استیعاب اور اصابہ سے ثابت ہے اور یہی بات درست ہے مگر جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے یہ بھی اپنے ایام زندگی میں اس فتنہ کے منانے میں کوشاں رہے ہیں۔