انوارالعلوم (جلد 4) — Page 319
العلوم جلد ) اسلام میں اختلافات کا آغاز شامل کیا گیا تھا جنہیں خلافت کے متعلق مشورہ کرنے کا کام سپرد کیا گیا تھا۔پھر بلا میری خواہش یا سوال کے مجھے خلافت کے لئے چنا گیا اور میں برابر وہ کام کرتا رہا جو مجھ سے پہلے خلفاء کرتے رہے اور میں نے اپنے پاس سے کوئی بدعت نہیں نکالی۔لیکن چند لوگوں کے دلوں میں بدی کا بیج بویا گیا اور شرارت جاگزیں ہوئی اور انہوں نے میرے خلاف منصوبے کرنے شروع کر دیئے۔اور لوگوں کے سامنے کچھ ظاہر کیا اور دل میں کچھ اور رکھا اور مجھ پر وہ الزام لگانے شروع کئے جو مجھ سے پہلے خلفاء" پر بھی لگتے تھے۔لیکن میں معلوم ہوتے ہوئے خاموش رہا۔اور یہ لوگ میرے رحم سے ناجائز فائدہ اٹھا کر شرارت میں اور بھی بڑھ گئے۔اور آخر کفار کی طرح مدینہ پر حملہ کر دیا۔پس آپ لوگ اگر کچھ کر سکیں تو مدد کا انتظام کریں۔اسی طرح ایک خط جس کا خلاصہ مطلب ذیل میں درج ہے حج پر آنے والوں کے نام لکھ کر کچھ دن بعد روانہ کیا۔میں آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلاتا حضرت عثمان " کا حاجیوں کے نام خط ہوں اور اس کے انعامات یاد دلاتا ہوں۔اس وقت کچھ لوگ فتنہ پردازی کر رہے ہیں اور اسلام میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش میں مشغول ہیں۔مگر ان لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا ANALOGUE لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأَرْضِ (النور: ۵۶) اور اتفاق کی قدر نہیں کی۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعاً - (ال عمران (۱۰۴) اور مجھ پر الزام لگانے والوں کی باتوں کو قبول کیا اور قرآن کریم کے اس حکم کی پرواہ نہ کی کہ یا تھا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا (الحجرات: ۷) اور میری بیعت کا ادب نہیں کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کی نسبت فرماتا ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ يُبَا ِيعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله ( الفتح ) اور میں رسول کریم ﷺ کا نائب ہوں۔کوئی امت بغیر سردار کے ترقی نہیں کر سکتی اور اگر کوئی امام نہ ہو تو جماعت کا تمام کام خراب و برباد ہو جائے گا۔یہ لوگ امت اسلامیہ کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں۔اور اس کے سوا ان کی کوئی غرض نہیں۔کیونکہ میں نے ان کی بات کو قبول کر لیا تھا اور والیوں کے بدلنے کا وعدہ کر لیا تھا۔مگر انہوں نے اس پر بھی شرارت نہ چھوڑی۔اب یہ تین باتوں میں سے ایک کا مطالبہ کرتے ہیں۔اول یہ کہ جن لوگوں کی کو میرے عہد میں سزا ملی ہے ان سب کا قصاص مجھ سے لیا جاوے۔اگر یہ مجھے منظور نہ ہو تو پھر