انوارالعلوم (جلد 4) — Page 317
انوار العلوم جلدم حضرت ام حبیبہ سے مفسدوں کا سلوک اسلام میں اختلافات کا آغاز امهات المؤمنین میں سے سب سے پہلے حضرت ام حبیبہ " آپ کی مدد کے لئے آئیں۔ایک خچر پر آپ سوار تھیں۔آپ اپنے ساتھ ایک مشکیزہ پانی کا بھی لا ئیں۔لیکن اصل غرض آپ کی یہ تھی کہ بنو امیہ کے بتائی اور بیواؤں کی وصیتیں حضرت عثمان کے پاس تھیں۔اور آپ نے جب دیکھا کہ حضرت عثمان کا پانی باغیوں نے بند کر دیا ہے تو آپ کو خوف ہوا کہ وہ وصایا بھی کہیں تلف نہ ہو جائیں اور آپ نے چاہا کہ کسی طرح وہ وصایا محفوظ کر لی جائیں۔ور نہ پانی آپ کسی اور ذریعہ سے بھی پہنچا سکتی تھیں۔جب آپ حضرت عثمان کے دروازے تک پہنچیں تو باغیوں نے آپ کو روکنا چاہا لوگوں نے بتایا کہ یہ ام المومنین ام حبیبہ ہیں مگر اس پر بھی وہ لوگ باز نہ آئے اور آپ کی فیچر کو مارنا شروع کیا۔ام المؤمنین ام حبیبہ نے فرمایا کہ میں ڈرتی ہوں کہ بنو امیہ کے بتائی اور بیوگان کی وصایا ضائع نہ ہو جائیں۔اس لئے اندر جانا چاہتی ہوں تاکہ ان کی حفاظت کا سامان کر دوں۔مگر ان بد بختوں نے آنحضرت اللا کی زوجہ مطہرہ کو جواب دیا کہ تم جھوٹ بولتی ہو اور آپ کی فیچر پر حملہ کر کے اس کے پالان کے رستے کاٹ دیئے اور زین الٹ گئی۔اور قریب تھا کہ حضرت ام حبیبہ اگر کر ان مفسدوں کے پیروں کے نیچے روندی جا کر شہید ہو جاتیں کہ بعض اہل مدینہ نے جو قریب تھے جھپٹ کر آپ کو سنبھالا اور گھر پہنچا دیا۔(طبری جلد ۲ صفحہ ۲۰۱۰ مطبوعہ بیروت) یہ وہ سلوک تھا جو ان لوگوں نے آنحضرت حضرت ام حبیبہ کی دینی غیرت کا نمونہ ر ال کی زوجہ مطہرہ سے کیا۔حضرت ام 14 حبیبہ آنحضرت سے ایسا اخلاص اور عشق رکھتی تھیں کہ جب پندرہ سولہ سال کی جدائی کے بعد آپ کا باپ جو عرب کا سردار تھا اور مکہ میں ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا ایک خاص سیاسی مشن پر مدینہ آیا اور آپ کے ملنے کیلئے گیا۔تو آپ نے اسکے نیچے سے رسول کریم کا بستر کھینچ لیا۔اس لئے کہ خدا کے رسول کے پاک کپڑے سے ایک مشرک کے نجس جسم کو چھوتے ہوئے دیکھنا آپ کی طاقت برداشت سے باہر تھا۔تعجب ہے کہ حضرت ام حبیبہ نے تو محمد رسول اللہ ا کی غیبت میں آپ کے کپڑے تک کی حرمت کا خیال رکھا مگران مفسدوں نے محمد رسول اللہ اسی کی غیبت میں آپکے حرم محترم کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا۔نادانوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کی بیوی جھوٹی ہیں حالانکہ جو کچھ انہوں نے فرمایا تھا وہ