انوارالعلوم (جلد 4) — Page 312
دم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز اور حضرت عمرؓ ایسا ہی کرتے رہے چھین لیا اور اس پر اکتفا نہ کی بلکہ رسول کریم اے کی اس یادگار کو جو امت اسلام کے لئے ہزاروں برکتوں کا موجب تھی اپنے گھٹنوں پر رکھ کر توڑ دیا۔حضرت عثمان سے ان کو نفرت سمی خلافت سے ان کو عداوت سہی مگر رسول کریم اے سے تو ان کو محبت کا دعویٰ تھا۔پھر رسول کریم ﷺ کی اس یادگار کو اس بے ادبی کے ساتھ توڑ دینے کی ان کو کیونکر جرات ہوئی۔یورپ آج دہریت کی انتہائی حد کو پہنچا ہوا ہے مگر یہ احساس اس میں بھی باقی ہے کہ اپنے بزرگوں کی یادگاروں کی قدر کرے۔مگر ان لوگوں نے باوجود دعوائے اسلام کے رسول کریم ﷺ کے عصائے مبارک کو توڑ کر پھینک دیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نصرت کا جوش صرف دکھاوے کا تھا ورنہ اس گروہ کے سردار اسلام سے ایسے ہی دور تھے جیسے کہ آج اسلام کے سب سے بڑے دشمن۔مفسدوں کا مسجد نبوی میں کنکر برسانا اور حضرت عثمان کو زخمی کرنا رسول کریم الات کا عصا تو ڑ کر بھی ان لوگوں کے دلوں کو ٹھنڈک نہ حاصل ہوئی اور انہوں نے اس مسجد میں جس کی بنیاد محمد رسول اللہ ﷺ نے رکھی تھی اور جس کی تعمیر نہایت مقدس ہاتھوں سے ہوئی تھی کنکروں کا مینہ برسانا شروع کیا اور کنکر مار مار کر صحابہ کرام اور اہل مدینہ کو مسجد نبوی سے باہر نکال دیا اور حضرت عثمان " پر اس قدر کنکر برسائے گئے کہ آپ بے ہوش ہو کر منبر پر سے گر گئے اور چند آدمی آپ کو اٹھا کر گھر چھوڑ آئے۔یہ اس محبت کا نمونہ تھا جو ان لوگوں کو اسلام اور حاملانِ شریعت اسلام سے تھی۔اور یہ وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کو یہ لوگ حضرت عثمان کو خلافت سے علیحدہ کر کے عالم اسلام میں جاری کرنا چاہتے تھے۔اس واقعہ کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت عثمان کے مقابلہ میں کھڑی ہونے والی جماعت صحابہ سے کوئی تعلق رکھتی تھی۔یا یہ کہ فی الواقع حضرت عثمان کی بعض کارروائیوں سے وہ شورش کرنے پر مجبور ہوئے تھے یا یہ کہ حمیت اسلامیہ ان کے غیظ و غضب کا باعث تھی۔ان کی بد عملیاں اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ نہ اسلام سے ان کو کوئی تعلق تھا نہ دین سے ان کو کوئی محبت تھی۔نہ صحابہ سے ان کو کوئی اُنس تھا۔وہ اپنی مخفی اغراض کے پورا کرنے کے لئے ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے پر آمادہ ہو رہے تھے اور اسلام کے قلعہ میں نقب زنی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔