انوارالعلوم (جلد 4) — Page 311
دم جلد ۴۳ Fli اسلام میں اختلافات کا آغاز یوں بھی آسان نہ تھا مگر اس صورت میں کہ وہ چند آدمیوں کو بھی اکٹھا ہونے نہ دیتے تھے اور دو دو چار چار آدمیوں سے زیادہ آدمیوں کا ایک جگہ جمع ہونا نا ممکن تھا۔باغی فوج کے مقابلہ کا خیال بھی دل میں لانا محال تھا۔اور اگر بعض من چلے جنگ پر آمادہ بھی ہوتے تو سوائے ہلاکت کی کے اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔مسجد ایک ایسی جگہ تھی جہاں لوگ جمع ہو سکتے تھے۔مگر ان لوگوں کی نے نہایت ہوشیاری سے اس کا بھی انتظام کر لیا تھا اور وہ یہ کہ نماز سے پہلے تمام مسجد میں پھیل جاتے اور اہل مدینہ کو اس طرح ایک دوسرے سے جداجدار کھتے کہ وہ کچھ نہ کر سکتے۔باوجود اس شور و فساد کے حضرت عثمان " نماز حضرت عثمان” کا مفسدوں کو نصیحت کرنا پڑھانے کے لئے باقاعدہ مسجد میں تشریف لاتے اور یہ لوگ بھی آپ سے اس معاملہ میں تعریض نہ کرتے اور امامت نماز سے نہ روکتے حتی کہ ان لوگوں کے مدینہ پر قبضہ کر لینے کے بعد سب سے پہلا جمعہ آیا۔حضرت عثمان نے جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کو نصیحت فرمائی۔اور فرمایا کہ اے دشمنان اسلام! خدا تعالی کا خوف کرو۔تمام اہل مدینہ اس بات کو جانتے ہیں کہ تم لوگوں پر رسول کریم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔پس تو بہ کرو اور اپنے گناہوں کو نیکیوں کے ذریعے سے مٹاؤ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو نیکیوں کے سوا کسی اور چیز سے نہیں مٹاتا۔اس پر محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں اس امر کی تصدیق کرتا ہوں۔ان لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عثمان " پر تو ہمارے ساتھی بدظن ہیں لیکن صحابہ نے اگر آپ کی تصدیق کرنی شروع کی اور ہماری جماعت کو معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ نے ہماری نسبت خاص طور پر پیشگوئی فرمائی تھی تو عوام شاید ہمارا ساتھ چھوڑ دیں۔اس لئے انہوں نے اس سلسلہ کو روکنا شروع کیا۔اور محمد بن مسلمہ رسول کریم ای کے مقرب صحابی کو جو تائید خلافت کے لئے نہ کسی فتنہ کے برپا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔حکیم بن جبلہ ڈاکو نے جس کا ذکر میں شروع میں کر چکا ہوں جبرا پکڑ کر بٹھا دیا۔اس پر زید بن ثابت جن کو قرآن کریم کے جمع کرنے کی عظیم الشان خدمت سپرد ہوئی تھی تصدیق کے لئے کھڑے ہوئے مگر ان کو بھی ایک اور شخص نے بٹھا دیا۔اس کے بعد اس محبت اسلام کا دعویٰ کرنے والی مفسدوں کا عصائے نبوی کو توڑنا جماعت کے ایک فرد نے حضرت عثمان کے ہاتھ سے وہ عصا جس پر رسول کریم ا یا ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اور آپ کے بعد حضرت ابو بکر