انوارالعلوم (جلد 4) — Page 292
۲۹۲ اسلام میں اختلافات کا آغاز عمل کر کے سند قبولیت حاصل کی تھی۔وہ لوگ ان مفسدوں کے پیچھے نماز پڑھنا تو الگ رہا ان کا امام بننا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور ان کو واجب القتل جانتے تھے۔کیا ان لوگوں کی نسبت کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ لوگ فتنہ عثمان میں شامل تھے یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عثمان اور ان کے عمال حقوق رعایا کو تلف کرتے تھے یا ان واقعات کی موجودگی میں قبول کیا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کی خاطر یہ مفسد فساد برپا کر رہے تھے۔نہیں بلکہ یہ فسادی جماعت صحابہ پر حسد کر کے فساد ہ آمادہ تھے اور اپنے دلی خیالات کو چھپاتے تھے حکومت اسلام کی بربادی ان کا اصل مقصد تھا۔اور یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا تھا جب تک حضرت عثمان کو درمیان سے نہ ہٹایا جاوے۔بعض جاہل یا بے دین مسلمان بھی ان کے اس فریب کو نہ سمجھ کر خود غرضی یا سادگی کے باعث ان کے ساتھ مل گئے تھے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری کے والی مقرر ہو جانے پر ان مفسدوں کی ایک اور سازش لوگوں کے لئے فتنہ برپا کرنے کی کوئی وجہ باقی نہ رہی تھی لیکن اس فتنہ کے اصل محرک اس امر کو پسند نہ کر سکتے تھے کہ ان کی تمام کوششیں اس طرح برباد ہو جاویں۔چنانچہ خط و کتابت شروع ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ سب ملکوں کی طرف سے کچھ لوگ وفد کے طور پر مدینہ منورہ کو چلیں۔وہاں آپس میں آئندہ طریق عمل کے متعلق مشورہ بھی کیا جاوے اور حضرت عثمان سے بعض سوال کئے جاویں تاکہ وہ باتیں تمام اقطار عالم میں پھیل جاویں اور لوگوں کو یقین ہو جاوے کہ حضرت عثمان " پر جو الزامات لگائے جاتے تھے وہ پایہ ثبوت کو پہنچا دیئے گئے ہیں۔یہ مشورہ کر کے یہ لوگ گھروں سے نکلے اور مدینے کی طرف سب نے رخ کیا۔جب مدینہ کے قریب پہنچے تو حضرت عثمان کو ان کی آمد کا علم ہوا۔آپ نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ وہ ان کا بھید لیں اور ان کی آمد کی اصل غرض دریافت کر کے اطلاع دیں۔یہ دونوں گئے اور مدینہ سے باہر اس قافلہ سے جاملے ان لوگوں نے ان دونوں مخبروں سے باتوں باتوں میں اپنے حالات بیان کر دیئے انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا اہل مدینہ میں سے بھی کوئی شخص ان کے ساتھ ہے جس پر ان مفسدوں کے گروہ نے کہا کہ وہاں تین شخص ہیں ان کے سوا کوئی چوتھا شخص ان کا ہمدرد نہیں۔ان دونوں نے دریافت کیا کہ پھر تمہارا کیا ارادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ارادہ یہ ہے کہ ہم مدینہ جا کر حضرت عثمان سے بعض ایسے امور کے متعلق گفتگو کریں گے جو پہلے سے ہم نے لوگوں کے دلوں میں بٹھا چھوڑے ہیں۔پھر ہم اپنے