انوارالعلوم (جلد 4) — Page 278
انوار العلوم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز اپنی حماقت اور جہالت کے قابل التفات ہی نہیں ہیں۔ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرنی چاہئے اور سعید والی کوفہ کو بھی لکھ دیا جاوے کہ ان کی طرف توجہ نہ کرے۔یہ بے دین لوگ ہیں اسلام سے متنفر ہیں۔اہل ذمہ کا مال لوٹنا چاہتے ہیں اور فتنہ ان کی عادت ہے ان لوگوں میں اتنی طاقت نہیں کہ بلا کسی دوسرے کی مدد کے خود کوئی نقصان پہنچا سکیں۔حضرت معاویہ کی یہ رائے بالکل درست تھی مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے علاقہ سے باہر مصر میں چھپی ہوئی ایک روح ہے۔جو ان سب لوگوں سے کام لے رہی ہے اور ان کا جاہل ہونا اور اُجڈ ہو نائی اس کے کام کے لئے محمد ہے۔وہ لوگ جب دمشق سے نکلے تو انہوں نے کوفہ کا ارادہ ترک کر دیا۔کیونکہ وہاں کے لوگ ان کی شرارتوں سے واقف تھے۔اور ان کو خوف تھا کہ وہاں ان کو نقصان پہنچے گا اور جزیرہ کی طرف چلے گئے۔وہاں کے گورنر عبدالرحمن تھے جو اس مشہور سپہ سالار کے خلف الرشید تھے جو جرأت اور دلیری میں تمام دنیا کے لئے ایک روشن مثال قائم کر گیا ہے یعنی خالد بن ولید - جس وقت ان کو ان لوگوں کی آمد کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے فوراً ان کو بلوایا اور کہا میں نے تمہارے حالات سنے ہیں۔خدا مجھے نامراد کرے اگر میں تم کو درست نہ کر دوں۔تم جانتے ہو کہ میں اس شخص کا بیٹا ہوں جس نے فتنہ ارتداد کو دور کیا تھا اور بڑی بڑی مشکلات سے کامیاب نکلا تھا۔میں دیکھوں گا کہ تم جس طرح معاویہ اور سعید سے باتیں کیا کرتے تھے مجھے سے بھی کر سکتے ہو۔سنو! اگر کسی شخص کے سامنے تم نے یہاں کوئی فتنہ کی بات کی تو پھر ایسی سزا دوں گا کہ تم یاد ہی رکھو گے یہ کہہ کر ان کو نظر بند کر دیا اور ہمیشہ اپنے ساتھ رہنے کا حکم دیا۔جب سفر پر جاتے تو ان کو اپنے ساتھ پا پیادہ لے جاتے اور ان سے دریافت کرتے کہ اب تمہارا کیا حال ہے؟ جس کو نیکی درست نہیں کرتی اس کا علاج سزا ہوتی ہے۔تم لوگ اب کیوں نہیں بولتے ؟ وہ لوگ ندامت کا اظہار کرتے اور اپنی شرارت پر تو بہ کرتے۔اسی طرح کچھ مدت گزرنے پر عبدالرحمن بن خالد بن ولید نے خیال کیا کہ ان لوگوں کی اصلاح ہو گئی ہے اور ان میں سے ایک شخص مالک نامی کو حضرت عثمان کی خدمت میں بھیجا کہ وہاں جا کر معافی مانگو دہ حضرت عثمان کے پاس آیا اور توبہ کی اور اظہار ندامت کیا اور اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لئے معافی مانگی۔انہوں نے ان کو معاف کر دیا اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کہاں رہنا چاہتے ہیں مالک نے کہا کہ اب ہم عبدالرحمن بن خالد کے پاس رہنا چاہتے ہیں۔حضرت عثمان نے اجازت