انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 275

انوار العلوم جلد ۴ ۲۷۵ اسلام میں اختلافات کا آغاز ہم بھی ویسی ہی داد و دہش کرتے۔ایک نوجوان نادانی سے بول پڑا کہ کاش فلاں جاگیر جو اموال شاہی میں سے تھی اور عام مسلمانوں کے فائدہ کے لئے رکھی گئی تھی آپ کے قبضہ میں ہوتی۔اس پر اس فتنہ انگیز جماعت کے بعض آدمی جو اس انتظار میں تھے کہ کوئی موقع نکلے تو ہم اپنے خیالات کا اظہار کریں غصہ کا اظہار کرنے لگے اور ظاہر کرنے لگے کہ یہ بات اس شخص نے سعید والی کوفہ کے اشارہ سے کسی ہے۔اور اس لئے کسی ہے تاکہ ان اموال کو ہضم کرنے کے لئے راستہ تیار کیا جاوے اور اٹھ کر اس شخص کو سعید کے سامنے ہی مارنا شروع کر دیا۔اس کا باپ مدد کے لئے اٹھا تو اسے بھی خوب پیٹا سعید ان کو روکتے رہے مگر انہوں نے ان کی بھی نہ سنی اور مار مار کر دونوں کو بے ہوش کر دیا۔یہ خبر جنب لوگوں کو معلوم ہوئی کہ سعید کے سامنے بعض لوگوں نے ایسی شرارت کی ہے تو لوگ ہتھیار بند ہو کر مکان پر جمع ہو گئے۔مگر ان لوگوں نے سعید کی منت و سماجت کی اور ان سے معافی مانگی اور پناہ کے طلب گار ہوئے۔ایک عرب کی فیاضی اور پھر وہ بھی قریش کی ایسے موقع پر کب برداشت کر سکتی تھی کہ دشمن پناہ مانگے اور وہ اس سے انکار کر دے۔سعید نے باہر نکل کر لوگوں سے کہہ دیا کہ کچھ لوگ آپس میں لڑ پڑے تھے معاملہ کچھ نہیں اب سب خیر ہے۔لوگ تو اپنے گھروں میں لوٹ گئے اور ان لوگوں نے پھر وہی بے تکلفی شروع کی۔مگر جب سعید کو یقین ہو گیا کہ اب ان لوگوں کے لئے کوئی خطرہ کی بات نہیں ان کو رخصت کر دیا۔اور جن لوگوں کو پیٹا گیا تھا ان سے کہہ دیا کہ چونکہ میں ان لوگوں کو پناہ دے چکا ہوں ان کے قصور کا اعلان نہ کرو اس میں میری سبکی ہو گی۔ہاں یہ تسلی رکھو کہ آئندہ یہ لوگ میری مجلس میں نہ آسکیں گے۔ان مفسدوں کی اصل غرض تو پوری ہو چکی تھی۔یعنی نظم اسلامی میں فساد پیدا کرنا۔اب انہوں نے گھروں میں بیٹھ کر علی الاعلان حضرت عثمان اور سعید کی برائیاں بیان کرنی شروع کر دیں۔لوگوں کو ان کا یہ رویہ بہت برا معلوم ہوا اور انہوں نے سعید سے شکایت کی کہ یہ اس طرح شرارت کرتے ہیں اور حضرت عثمان کی اور آپ کی برائیاں بیان کرتے ہیں اور امت اسلامیہ کے اتحاد کو توڑنا چاہتے ہیں۔ہم یہ بات برداشت نہیں کر سکتے آپ اس کا انتظام کریں۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگ خود تمام واقعات سے حضرت عثمان " کو اطلاع دیں۔آپ کے حکم کے ماتحت انتظام کیا جاوے گا۔تمام شرفاء نے حضرت عثمان کو واقعات سے اطلاع دی۔اور آپ نے سعید کو حکم دیا کہ اگر روسائے کوفہ اس امر پر متفق ہوں تو ان لوگوں کو شام