انوارالعلوم (جلد 4) — Page 274
لم اسلام میں اختلافات کا آغاز نام کو روشن کرنے کے لئے کسی شخص کو انہی کے اخلاق اور صفات دے کر کھڑا کر دے۔مگریہ امر تناسخ یا کسی شخص کے دوبارہ واپس آنے کے عقیدہ سے بالکل الگ ہے۔اور ایک بدیہی اور مشہور امر ہے۔علاوہ اس رجعت کے عقیدہ کے عبداللہ بن سبا نے یہ بھی مشہور کرنا شروع کیا کہ ہزار نبی گزرے ہیں اور ہر ایک نبی کا ایک وصی تھا۔اور رسول کریم ﷺ کے وصی حضرت علی ہیں۔رسول کریم و خاتم الانبیاء تھے تو حضرت علی خاتم الاوصیاء ہیں۔پھر کہتا اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہو سکتا ہے جو رسول کریم اے کے وصی پر حملہ کر کے اس کا حق چھین لے۔غرض علاوه سیاسی تدابیر کے جو اسلام میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اس شخص نے اختیار کر رکھی تھیں۔مذہبی فتنہ بھی برپا کر رکھا تھا اور مسلمانوں کے عقائد خراب کرنے کی بھی فکر کر رہا تھا مگر یہ احتیاط ضرور برتا تھا کہ لوگ اس کو مسلمان ہی سمجھیں۔ایسی حالت میں تین سال گزر گئے اور یہ مفسد گروه برابر خفیہ کارروائیاں کرتا رہا اور اپنی جماعت بڑھا تا گیا۔لیکن اس تین سال کے عرصہ میں کوئی خاص واقعہ سوائے اس کے نہیں ہوا کہ محمد بن ابی بکر اور محمد بن ابی حذیفہ دو شخص مدینہ منورہ کے باشندے بھی اس فتنہ میں کسی قدر حصہ لینے لگے محمد بن ابی بکر تو حضرت ابو بکر کا چھوٹا لڑکا تھا جسے سوائے اس خصوصیت کے کہ وہ حضرت ابو بکر" کا لڑکا تھا دینی طور پر کوئی فضیلت حاصل نہ تھی۔اور محمد بن ابی حذیفہ ایک یتیم تھا جسے حضرت عثمان نے پالا تھا۔مگر بڑا ہو کر اس نے خاص طور پر آپ کی مخالفت میں حصہ لیا جس کی وجوہ میں ابھی بیان کروں گا چوتھے سال میں اس فتنہ نے کسی قدر ہیبت ناک صورت اختیار کرلی اور اس کے بانیوں نے مناسب سمجھا کہ اب علی الاعلان اپنے خیالات کا اظہار کیا جاوے اور حکومت کے رعب کو مٹایا جاوے چنانچہ اس امر میں بھی کوفہ ہی نے ابتداء کی۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں ولید بن عقبہ کے بعد سعید بن العاص والی کوفہ مقرر ہوئے تھے۔انہوں نے شروع سے یہ طریق اختیار کر رکھا تھا کہ صرف شرفاء شہر کو اپنے پاس آنے دیتے تھے مگر کبھی کبھی وہ ایسا بھی کرتے کہ عام مجلس کرتے اور ہر طبقہ کے آدمیوں کو اس وقت پاس آنے کی اجازت ہوتی۔ایک دن اسی قسم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت طلحہ کی سخاوت کا ذکر آیا اور کسی نے کہا کہ وہ بہت ہی سخاوت سے کام لیتے ہیں۔اس پر سعید کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ ان کے پاس مال بہت ہے وہ سخاوت کرتے ہیں ہمارے پاس بھی مال ہو تا تو