انوارالعلوم (جلد 4) — Page 269
لوم جلد ۴ ۲۶۹ اسلام میں اختلافات کا آغاز کیا آپ اس گھر کو چھوڑ کر اس گھر سے بد تر گھر کو اختیار کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب مدینہ کی آبادی سلع تک پھیل جاوے تو تم مدینہ میں نہ رہنا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ آپ رسول خدا کا حکم بجا لاویں۔اور کچھ اونٹ اور دو غلام دے کر مدینہ سے رخصت کیا اور تاکید کی کہ مدینہ سے کلی طور پر قطع تعلق نہ کریں بلکہ وہاں آتے جاتے رہیں۔جس ہدایت پر ابو ذرہ ہمیشہ عمل کرتے رہے۔(طبری جلد نمبرہ صفحه ۲۸۷۰ مطبوعہ بیروت) یہ چو تھا فتنہ تھا جو پیدا ہوا اور گو اس میں حضرت ابوذر کو ہتھیار بنایا گیا تھا مگر در حقیقت نہ حضرت ابوذر کے خیالات وہ تھے جو مفسدوں نے اختیار کئے اور نہ ان کو ان لوگوں کی شرارتوں کا علم تھا۔حضرت ابوذر تو باوجود اختلاف کے کبھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ نہ ہوئے اور حکومت کی اطاعت اس طور پر کرتے رہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے خاص حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو فتنہ اور تکلیف سے بچانے کے لئے رسول کریمی نے ان کو ایک خاص وقت پر مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔انہوں نے بغیر حضرت عثمان کی اجازت کے اس حکم پر عمل کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا اور پھر جب وہ مدینہ سے نکل کر ربذہ میں جا کر مقیم ہوئے اور وہاں کے محصل نے ان کو نماز کا امام بننے کے لئے کہا تو انہوں نے اس سے اس بناء پر انکار کیا کہ تم یہاں کے حاکم ہو اس لئے تم ہی کو امام بننا سزادار ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت حکام سے ان کو کوئی انحراف نہ تھا اور نہ انار کی کو وہ جائز سمجھتے تھے۔حضرت ابو ذر کی سادگی کا اس امر سے خوب پتہ چلتا ہے کہ جب ابن السوداء کے دھوکا دینے سے وہ معاویہ سے جھگڑتے تھے کہ بیت المال کے اموال کو مال اللہ نہیں کہنا چاہئے اور ی حضرت عثمان کے پاس بھی شکایت لائے تھے وہ اپنی بول چال میں اس لفظ کو برابر استعمال کرتے تھے چنانچہ اس فساد کے بعد جب کہ وہ ربذہ میں تھے ایک دفعہ ایک قافلہ وہاں اترا۔اس قافلہ کے لوگوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھیوں کو ہم نے دیکھا ہے وہ بڑے بڑے مالدار ہیں مگر آپ اس غربت کی حالت میں ہیں۔انہوں نے ان کو یہ جواب دیا کہ اِنَّهُمْ لَيْسَ لَهُمْ فِي مَالِ اللَّهِ حَقٌّ إِلَّا وَلِى مِثْلُهُ (طبری جلد ۵ صفحه ۲۸۶۲ مطبوعہ بیروت) یعنی ان کا مال اللہ (یعنی بیت المال کے اموال) میں کوئی ایسا حق نہیں جو مجھے حاصل نہ ہو۔اسی طرح انہوں نے وہاں کے حبشی حاکم کو بھی رَقِيقٌ مِّنْ مالِ اللهِ (طبری جلد ۵ صفحہ ۲۸۷۲ مطبوعہ بیروت) (مال اللہ کا