انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 267

العلوم جلد * اسلام میں اختلافات کا آغاز کے اموال کی کیا شرط ہے ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی ہے۔پھر وہ خاص طور پر اس مال کو مال اللہ کیوں کہتا ہے۔صرف اس لئے کہ مسلمانوں کا حق جو اس مال میں ہے اس کو ضائع کر دے اور ان کا نام بیچ میں سے اڑا کر آپ وہ مال کھا جاوے۔حضرت ابوذر تو آگے ہی اس تلقین میں لگے رہتے تھے کہ امراء کو چاہئے کہ سب مال غرباء میں تقسیم کر دیں کیونکہ مؤمن کے لئے آرام کی جگہ اگلا جہاں ہی ہے اور اس شخص کی شرارت اور نیت سے آپ کو بالکل واقفیت نہ تھی۔بس آپ اس کے دھوکا میں آگئے اور خیال کیا کہ واقع میں بیت المال کے اموال کو مال اللہ کہنا درست نہیں۔اس میں اموال کے غصب ہو جانے کا خطرہ ہے۔ابن سوداء نے اس طرح حضرت معاویہ سے اس امر کا بدلہ لیا کہ کیوں انہوں نے اس کے لنکنے کے لئے شام میں کوئی ٹھکانا نہیں بننے دیا۔حضرت ابوذر معاویہ کے پاس پہنچے اور ان کو سمجھایا کہ آپ مسلمانوں کے مال کو مائی اللہ کہتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ اے ابوذرا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے کیا ہم سب اللہ کے بندے نہیں؟ یہ مال اللہ کا مال نہیں؟ اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں ؟ اور حکم خدا کے ہاتھ میں نہیں ؟ یعنی جب کہ بندے بھی خدا کے ہیں اور حکم بھی اسی کا جاری ہے تو پھر ان اموال کو اموال اللہ کہنے سے لوگوں کے حق کیونکر ضائع ہو جائیں گے۔جو خدا تعالیٰ نے حقوق مقرر کئے ہیں وہ اس کے فرمان کے مطابق اس کی مخلوق کو ملیں گے۔یہ جواب ایسا لطیف تھا کہ حضرت ابو ذر اس کا جواب تو بالکل نہ دے سکے مگر چونکہ اس معاملہ میں ان کو خاص جوش تھا اور ابن سوداء ایک شک آپ کے دل میں ڈال گیا تھا۔اس لئے آپ نے احتیاطاً حضرت معاویہ کو یہی مشورہ دیا کہ آپ اس لفظ کو ترک کر دیں۔انہوں نے جواب دیا کہ میں یہ تو ہر گز نہیں کہنے کا کہ یہ اموال اللہ نہیں ہاں آئندہ اس کو اموال المسلمین کہا کروں گا۔ابن سوداء نے جب یہ حربہ کسی قدر کارگر دیکھا تو اور صحابہ کے پاس پہنچا اور ان کو اکسانا چاہا۔مگر وہ حضرت ابو ذر کی طرح گوشہ گزیں نہ تھے۔اس شخص کی شرارتوں سے واقف تھے۔ابو درداء نے اس کی بات سنتے ہی کہا تو کون ہے جو ایسی فتنہ انگیز بات کہتا ہے۔خدا کی قسم تو یہودی ہے۔ان سے مایوس ہو کر وہ انصار کے سردار رسول کریم ل ل ا ل لا کے خاص مقرب عبادہ بن صامت کے پاس پہنچا اور ان سے کچھ فتنہ انگیز باتیں کہیں۔انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور حضرت معاویہ کے پاس لے گئے اور کہا کہ یہ شخص ہے جس نے ابو ذر غفاری " کو آپ کے پاس بھیجا تھا۔شام میں اپنا کام نہ بنتا دیکھ کر ابن السوداء تو مصر کی طرف چلا گیا اور ادھر حضرت ابوذر کے دل