انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 265

نلوم چاند ہے ۲۶۵ اسلام میں اختلافات کا آغاز اس واقعہ پر کوفہ کو ترک کر دینا اس امر کی کافی شہادت ہے کہ یہ منفرد مثال آئندہ کے خطرناک واقعات کی طرف اشارہ تھی۔انہی دنوں ایک اور فتنہ نے سر نکالنا شروع کیا۔عبد اللہ بن سبا ایک یہودی تھا جو اپنی ماں کی وجہ سے ابن السوداء کہلاتا تھا۔یمن کا رہنے والا اور نہایت بد باطن انسان تھا۔اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھ کر اس غرض سے مسلمان ہوا کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ ڈلوائے۔میرے نزدیک اس زمانہ کے فتنے اس مفسد انسان کے ارد گرد گھومتے ہیں اور یہ ان کی روح رواں ہے۔شرارت کی طرف مائل ہو جانا اس کی جبلت میں داخل معلوم ہوتا ہے۔خفیہ منصوبہ کرنا اس کی عادت تھی اور اپنے مطلب کے آدمیوں کو تار لینے میں اس کو خاص مہارت تھی۔ہر شخص سے اس کے مذاق کے مطابق بات کرتا تھا اور نیکی کے پردے میں بدی کی تحریک کرتا تھا۔اور اسی وجہ سے اچھے اچھے سنجیدہ آدمی اس کے دھوکے میں آجاتے تھے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے نصف میں مسلمان ہوا اور تمام بلاد اسلامیہ کا دورہ اس غرض سے کیا کہ ہر ایک جگہ کے حالات سے خود واقفیت پیدا کرے۔مدینہ منورہ میں تو اس کی دال نہ گل سکتی تھی۔مکہ مکرمہ اس وقت سیاسیات سے بالکل علیحدہ تھا۔سیاسی مرکز اس وقت دار الخلافہ کے سوا بصرہ کوفہ ، دمشق اور فسطاط تھے۔پہلے ان مقامات کا اس نے دورہ کیا اور یہ رویہ اختیار کیا کہ ایسے لوگوں کی تلاش کر کے جو سزا یافتہ تھے اور اس وجہ سے حکومت سے ناخوش تھے ان سے ملتا اور انہی کے ہاں ٹھرتا۔چنانچہ سب سے پہلے بصرہ گیا اور حکیم بن جبلہ ایک نظر بند ڈاکو کے پاس ٹھرا اور اپنے ہم مذاق لوگوں کو جمع کرنا شروع کیا اور ان کی ایک مجلس بنائی۔چونکہ کام کی ابتداء تھی اور یہ آدمی ہو شیار تھا صاف صاف بات نہ کرتا بلکہ اشارہ کنایہ سے ان کو فتنہ کی طرف بلاتا تھا۔اور جیسا کہ اس نے ہمیشہ اپنا وطیرہ رکھا ہے وعظ و پند کا سلسلہ بھی ساتھ جاری رکھتا تھا۔جس سے ان لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت پیدا ہو گئی اور وہ اس کی باتیں قبول کرنے لگے۔عبداللہ بن عامر کو جو بصرہ کے والی تھے جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا اور اس کے آنے کی وجہ دریافت کی۔اس نے جواب میں کہلا بھیجا کہ میں اہل کتاب میں سے ایک شخص ہوں جسے اسلام کا اُنس ہو گیا ہے اور آپ کی حفاظت میں رہنا چاہتا ہوں۔عبد اللہ بن عامر کو چونکہ اصل حالات آگاہی حاصل ہو چکی تھی۔انہوں نے اس کے عذر کو قبول نہ کیا اور کہا کہ مجھے تمہارے متعلق جو حالات معلوم ہیں وہ ان کے خلاف ہیں اس لئے تم میرے علاقہ سے نکل جاؤ۔وہ بصرہ