انوارالعلوم (جلد 4) — Page 260
۲۶۰ اسلام میں اختلافات کا آغاز کو مٹایا جاوے اور اس سلک اتحاد کو توڑ دیا جاوے جس میں تمام عالم کے مسلمان پر وئے ہوئے ہیں تاکہ اتحاد کی برکتوں سے مسلمان محروم ہو جائیں۔اور نگران کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھا کر مذاہب باطلہ پھر اپنی ترقی کے لئے کوئی راستہ نکال سکیں اور دجل و فریب کے ظاہر ہونے کا کوئی خطرہ نہ رہے۔یہ وہ چار بواعث ہیں جو میرے نزدیک اس فتنہ عظیم کے برپا کرنے کا موجب ہوئے۔جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں ملت اسلام کی بنیادوں کو ہلا دیا اور بعض وقت اس پر ایسے آئے کہ دشمن اس بات پر اپنے دل میں خوش ہونے لگا کہ یہ قصر عالی شان اب اپنی چھتوں اور دیواروں سمیت زمین کے ساتھ آلگے گا اور ہمیشہ کے لئے اس دین کا خاتمہ ہو جائے گا جس نے اپنے لئے یہ شاندار مستقبل مقرر کیا ہے کہ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَ دينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه است ) یعنی وہ خدا ہی ہے کہ جس نے اپنا رسول بچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو باوجود اس کے منکروں کی ناپسندیدگی کے تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے۔میں نے ان تاریخی واقعات سے جو فتنہ حضرت عثمان کے وقت میں کیوں اٹھا؟ حضرت عثمان کے آخری ایام خلافت میں ہوئے نتیجہ نکال کر اصل بواعث فتنہ بیان کر دیئے ہیں۔وہ درست ہیں یا غلط اس کا اندازہ آپ لوگوں کو ان واقعات کے معلوم کرنے پر جن سے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے خود ہو جائے گا۔پیشتر اس کے کہ میں وہ واقعات بیان کروں اس سوال کے متعلق بھی کچھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ فتنہ حضرت عثمان" کے وقت میں کیوں اٹھا؟ بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے۔ان نو مسلموں میں اکثر حصہ وہی تھا جو عربی زبان سے ناواقف تھا اور اس وجہ سے دین اسلام کا سیکھنا اس کے لئے ویسا آسان نہ تھا جیسا کہ عربوں کے لئے اور جو لوگ عربی جانتے بھی تھے وہ ایرانیوں اور شامیوں سے میل ملاپ کی وجہ سے صدیوں سے ان گندے خیالات کا شکار رہے تھے جو اس وقت کے تمدن کا لازمی نتیجہ تھے۔علاوہ ازیں ایرانیوں اور مسیحیوں سے جنگوں کی وجہ سے اکثر صحابہ اور ان کے شاگردوں کی تمام طاقتیں دشمن کے حملوں کے رد کرنے میں صرف ہو رہی تھیں۔اس ایک طرف توجہ کا بیرونی دشمنوں کی طرف مشغول ہونا دوسری طرف اکثر نو مسلموں کا عربی زبان سے ناواقف ہوتا یا عجمی