انوارالعلوم (جلد 4) — Page 259
ار العلوم جلد ۴ ۲۵۹ اسلام میں اذ ات کا آغاز اور اس انتظام کو سرے سے ہی اکھاڑ پھینک دینے کے منصوبے کرتے۔چوتھا سبب میرے نزدیک اس فتنہ کا یہ تھا کہ اسلام کی ترقی ایسے غیر معمولی طور پر ہوئی ہے کہ اس کے دشمن اس کا اندازہ شروع میں کرہی نہ سکے۔مکہ والے بھی اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اور رسول کریم کے ضعف کے خیال میں ہی بیٹھے تھے کہ مکہ فتح ہو گیا اور کی اسلام جزیرہ عرب میں پھیل گیا۔اسلام کی اس بڑھنے والی طاقت کو قیصر روم اور کسری ایران ایسی حقارت آمیز اور تماش میں نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جیسے کہ ایک جابر پہلوان ایک گھٹنوں کے بل رینگنے والے بچہ کی کھڑے ہونے کے لئے پہلی کوشش کو دیکھتا ہے۔سلطنت ایران اور دولت یونان ضربت محمدی کے ایک ہی صدمہ سے پاش پاش ہو گئیں۔جب تک مسلمان ان جابر حکومتوں کا مقابلہ کر رہے تھے جنہوں نے سینکڑوں ہزاروں سال سے بنی نوع انسان کو غلام بنا رکھا تھا اور اس کی قلیل التعداد بے سامان فوج دشمن کی کثیر التعداد با سامان فوج کے ساتھ بر سر پیکار تھی۔اس وقت تک تو دشمنان اسلام یہ خیال کرتے رہے کہ مسلمانوں کی کامیابیاں عارضی ہیں اور عنقریب یہ ہر نیا رخ پھیرے گی۔اور یہ آندھی کی طرح اٹھنے والی قوم بگولے کی طرح اڑ جائے گی۔مگر ان کی حیرت کی کچھ حد نہ رہی جب چند سال کے عرصہ میں مطلع صاف ہو گیا اور دنیا کے چاروں کونوں پر اسلامی پرچم لہرانے لگا یہ ایسی کامیابی تھی جس نے دشمن کی عقل مار دی اور وہ حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوب گیا۔اور صحابہ اور ان کے صحبت یافتہ لوگ دشمنوں کی نظر میں انسانوں سے بالا ہستی نظر آنے لگے۔اور وہ تمام امیدیں اپنے دل سے نکال بیٹھے۔مگر جب کچھ عرصہ فتوحات پر گزر گیا اور وہ حیرت و استعجاب جو ان کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھا کم ہوا اور صحابہ کے ساتھ میل جول سے وہ پہلا خوف و خطر جاتا رہا تو پھر اسلام کا مقابلہ کرنے اور مذاہب باطلہ کو قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا۔اسلام کی پاک تعلیم کا مقابلہ دلائل سے تو وہ نہ کر سکتے تھے۔حکومتیں مٹ چکی تھیں اور وہ ایک ہی حربہ جو حق کے مقابلہ میں چلایا جاتا تھا یعنی جبر اور تعدّی ٹوٹ چکا تھا۔اب ایک ہی صورت باقی تھی یعنی دوست بن کر دشمن کا کام کیا جائے اور اتفاق پیدا کر کے اختلاف کی صورت کی جائے۔پس بعض شقی القلب لوگوں نے جو اسلام کے نور کو دیکھ کر اندھے ہو رہے تھے اسلام کو ظاہر میں قبول کیا اور مسلمان ہو کر اسلام کو تباہ کرنے کی نیت کی۔چونکہ اسلام کی ترقی خلافت سے وابستہ تھی اور گلہ بان کی موجودگی میں بھیڑیا حملہ نہ کر سکا اس لئے یہ تجویز کی گئی کہ خلافت