انوارالعلوم (جلد 4) — Page 258
العلوم جلد ۲۵۸ اسلام میں اختلافات کا آغاز تیسرا سب میرے نزدیک یہ ہے کہ اسلام کی نورانی شعاعوں کے اثر سے بہت سے لوگوں نے اپنی زندگیوں میں ایک تغیر عظیم پیدا کر دیا تھا مگر اس اثر ہے وہ کسی کسی طرح پوری نہیں ہو سکتی تھی جو ہمیشہ دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول کے لئے کسی معلم کا انسان کو محتاج بناتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے وقت میں جب فوج در فوج آدمی داخل اسلام ہوئے تب بھی یہی خطرہ دامن گیر تھا۔مگر آپ سے خدا تعالیٰ کا خاص وعدہ تھا کہ اس ترقی کے زمانہ میں اسلام لانے والے لوگوں کو بداثر سے بچایا جائے گا۔چنانچہ آپ کی وفات کے بعد گو ایک سخت لہرار تداد کی پیدا ہوئی مگر فور ا دب گئی اور لوگوں کو حقیقت اسلام معلوم ہو گئی مگر آپ کے بعد ایران و شام اور مصر کی فتوحات کے بعد اسلام اور دیگر مذاہب کے میل و ملاپ سے جو فتوحات روحانی اسلام کو حاصل ہو ئیں وہی اس کے انتظام سیاسی کے اختلال کا باعث ہو گئیں۔کروڑوں کروڑ آدمی اسلام کے اندر داخل ہوئے اور اس کی شاندار تعلیم کو دیکھ کر ایسے فدائی ہوئے کہ اس کے لئے جانیں دینے کے لئے تیار ہو گئے۔مگر اس قدر تعداد نو مسلموں کی بڑھ گئی کہ ان کی تعلیم کا کوئی ایسا انتظام نہ ہو سکا جو طمانیت بخش ہو تا۔جیسا کہ قاعدہ ہے اور انسانی دماغ کے باریک مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی جوش کے ماتحت ان لوگوں کی تربیت اور تعلیم کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔جو کچھ یہ مسلمانوں کو کرتے دیکھتے تھے کرتے تھے اور ہر ایک حکم کو بخوشی بجا لاتے تھے۔مگر جوں جوں ابتدائی جوش کم ہو تا گیا۔جن لوگوں کو تربیت روحانی حاصل کرنے کا فی موقع نہ ملا تھا ان کو احکام اسلام کی بجا آوری بار معلوم ہونے لگی۔اور نئے جوش کے ٹھنڈا ہوتے ہی پرانی عادات نے پھر زور کرنا شروع کیا۔غلطیاں ہر ایک انسان سے ہو جاتی ہیں اور سیکھتے سکھتے انسان سیکھتا ہے۔اگر ان لوگوں کو کچھ حاصل کرنے کا خیال ہو نا تو کچھ عرصہ تک ٹھوکریں کھاتے ہوئے آخر سیکھ جاتے۔مگر یا تو رسول کریم ان کے وقت یہ حال تھا کہ ایک شخص سے جب ایک جرم ہو گیا تو باوجو د رسول کریم کے اشارہ فرمانے کے کہ جب خدا تعالی ستاری کرے تو کوئی خود کیوں اپنی فضیحت کرے اس نے اپنے قصور کا خود اقرار کیا اور سنگسار ہونے سے نہ ڈرا۔یا اب حدود شریعت کو قائم رکھنے کے لئے اگر چھوٹی سے چھوٹی سزا بھی دی جاتی تو ان لوگوں کو نا پسند ہوتی۔پس بوجہ اسلام کے دل میں نہ داخل ہونے کے شریعت کو توڑنے سے کچھ لوگ باز نہ رہتے۔اور جب حدود شریعت کو قائم کیا جاتا تو ناراض ہوتے اور خلیفہ اور اس کے ممال پر اعتراض کرتے اور ان کے خلاف اپنے دل میں کینہ رکھتے