انوارالعلوم (جلد 4) — Page 250
وم جلد ۴ ۲۵۰ اسلام میں اختلافات کا آغاز خود عربی تاریخیں پڑھنے کا موقع ملا بھی انہوں نے بھی یورپ کی ہائر کریٹیسیزم (HIGHER CRITICISM) (اعلی طریق تنقید سے ڈر کر ان بے سروپا اور جعلی روایات کو جن پر یورپین مصنفوں نے اپنی تحقیق کی بناء رکھی تھی صحیح اور مقدم سمجھا اور دوسری روایات کو غلط قرار دیا۔اور اس طرح یہ زمانہ ان لوگوں سے تقریباً خالی ہو گیا جنہوں نے واقعات کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش کی۔اس بات کو خوب یاد رکھو کہ یہ اسلام میں فتنوں کے اصلی موجب صحابہ نہ تھے خیال کہ اسلام میں فتنوں کے موجب بعض بڑے بڑے صحابہ ہی تھے بالکل غلط ہے۔ان لوگوں کے حالات پر مجموعی نظر ڈالتے ہوئے یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اپنے ذاتی اغراض یا مفاد کی خاطر انہوں نے اسلام کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی۔جن لوگوں نے صحابہ کی جماعت میں مسلمانوں میں اختلاف و شقاق نمودار ہونے کی وجوہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے سخت غلطی کھائی ہے۔فتنہ کی وجوہ اور جگہ پیدا ہوئی ہیں اور وہیں ان کی تلاش کرنے پر کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی امید کی جانے سکتی ہے۔جو غلط روایات کہ اس زمانہ کے متعلق مشہور کی گئی ہیں اگر ان کو صحیح تسلیم کر لیا جاوے تو ایک صحابی بھی نہیں بچتا جو اس فتنہ میں حصہ لینے سے محفوظ رہا ہو اور ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جو تقویٰ اور دیانت پر مضبوطی سے قائم رہا ہو اور یہ اسلام کی صداقت پر ایک ایسا حملہ ہے کہ بیخ و بنیاد اس سے اکھڑ جاتی ہے۔حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اور ان روایات کے بموجب اسلام کے درخت کے پھل ایسے کڑوے ثابت ہوتے ہیں کہ کچھ خرچ کرنا تو الگ رہا مفت بھی اس کے لینے کے لئے کوئی تیار نہ ہو گا۔مگر کیا کوئی شخص جس نے رسول کریم ان کی قوت قدسیہ کا ذرا بھی مطالعہ کیا ہو اس امر کے تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ خیال کرنا بھی بعید از عقل ہے کہ جن لوگوں نے آنحضرت ا کی صحبت پائی آپ کے جلیل القدر اور جاں نثار صحابہ تھے اور آپ۔نہایت قریبی رشتے اور تعلق رکھتے تھے وہ بھی اور ان کے علاوہ تمام دیگر صحابہ بھی بلا استثناء چند ہی سال میں ایسے بگڑ گئے کہ صرف ذاتی اغراض کے لئے نہ کہ کسی مذہبی اختلاف کی بناء پر ایسے اختلافات میں پڑ گئے کہ اس کے صدمہ سے اسلام کی جڑیل گئی۔مگر افسوس ہے کہ گو مسلمان لفظا تو نہیں کہتے کہ صحابہ نے اسلام کو تباہ و برباد کرنے کے لئے فتنے کھڑے کئے۔