انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 236

انوار العلوم جلد ۴ PFY اصلاح اعمال کی تلقین پاؤں، اپنی زبان اور اپنے خیال سے زہر پھیلاتا ہے اور بہت سوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔وہ اسلام میں روک ڈالتا ہے اور جو لوگ اشاعت اسلام کی کوشش کرتے ہیں ان کے مقابلہ میں روک بنتا ہے کیونکہ جہاں اشاعت اسلام کرنے والے لوگوں کے دلوں میں اسلام کے پھیلانے کی رو پیدا ہوتی ہے وہاں اس کے دل میں ایسے خیالات پیدا ہوتے ہیں جن سے فتنہ و فساد و شرارت اور بدامنی پیدا ہوتی ہے۔پس ہر شخص کو چاہئے کہ اپنے خیالات اور افعال کو نہایت احتیاط کے دائرہ میں رکھے اور کوئی بات اور کوئی فعل ایسا نہ کرے جس سے چھوٹے سے چھوٹا فتنہ پیدا ہونے کا احتمال بھی ہو اور ہر ایک برے خیال کا مقابلہ کرتے ہوئے نیک خیالات اور اچھے ارادے اپنے دل میں پیدا کرے۔ایسا شخص اگر اپنے گھر میں بیٹھا ہو تو بھی دور دور اسلام کی تبلیغ کا موجب بن رہا ہو گا کیونکہ اس کے دل سے جو اچھی رو نکلے گی وہ دور دور پھیلے گی اور لوگوں کو متاثر کرے گی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر ا نے کہا ہے۔نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ ا الله عَمَلِهِ ۳ نیت اور عمل میں فرق خَيْرٌ مِّنْ عَليه۔(جمع بحار الانوار جلد مصلح ۱۴۰۷) کہ مومن کی نیت اس کے عمل سے اچھی ہے۔بعض لوگوں نے اسے رسول کریم ﷺ کی حدیث قرار دیا ہے لیکن یہ حدیث نہیں ہے حضرت عمر اللہ کا قول ہے۔ظاہری نظر سے دیکھنے والا انسان تو کے گا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ نیت عمل سے اچھی ہو اور صرف اچھی نیت کرنا عمل کرنے سے اچھا ہو۔لیکن بات دراصل یہ ہے کہ جو انسان قلب میں اصلاح کرلے وہ اعمال صالحہ تو کرے گا ہی لیکن چونکہ اس کے قلب کا اثر دور دور تک پہنچے گا جس سے لوگوں میں ایسی کشش پیدا ہوگی کہ اسلام کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔اس لئے نیت کا درجہ عمل سے اعلیٰ بتایا گیا ہے کیونکہ عمل صرف دیکھنے والوں پر اثر ڈال سکتا ہے جو بہت محدود ہوتے ہیں مگر قلب کا اثر دور دور تک پہنچتا ہے تو چونکہ نیتوں ، ارادوں اور باتوں کا اثر بہت وسیع ہوتا ہے اس لئے ان کے متعلق مؤمن کو بہت محتاط رہنا چاہئے مگر عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کسی کے دل میں جو خیال آتا ہے خواہ وہ کیسا ہی فتنہ انگیز ہو اُسے پھیلانا شروع کر دیا جاتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں شریک کر لیا جاتا ہے۔یہ مؤمن کی شان نہیں ہے۔مؤمن کی شان مؤمن وہی ہے جو اپنے ہر قسم کے خیالات اور ارادوں پر پوری طرح قبضہ اور اختیار رکھتا ہے۔اپنے دل میں نیک اور اچھے خیال کو آنے دیتا ہے اور